کورونا اپڈیٹس : ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 3059 ریکارڈ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ملک بھر میں کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 3059 ہو گئی ہے جبکہ 45 افراد اس موذی مرض سے جاں بحق اور 170 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزارت صحت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے جاری کردی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 3059 ہوگئی۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک شخص اس وائرس کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گیا جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 45 ہو گئی جب کہ مجموعی طور پر 170 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 19 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 1319، سندھ میں 881، خیبر پختونخوا میں 372، بلوچستان میں 189، اسلام آباد 78، آزاد کشمیر 14 اور گلگت بلتستان میں 206 کورونا کے مریض ہیں۔

پنجاب میں کورونا سے متاثرین تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں اس وقت کورونا کے 45 تصدیق شدہ مریض جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے 15 کا تعلق سندھ، 12 کا پنجاب، 14 کا خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان سے 3 جب کہ ایک مریض کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کا سامان لے کر ابوظہبی سے نجی ایئر لائن کا جہاز پاکستان پہنچ گیا جس میں کورونا کٹس، سینیٹائزرز اور ماسک لائے گئے ہیں۔ 12 ٹن وزنی سامان کے یہ ڈبے یو اے ای ایمبیسی کے حوالے کر دیے گئے۔ یواے ای ایمبیسی کی جانب سے سامان جی ایچ کیو کے حوالے کیا جائیگا۔

پاکستان کا دورہ کرنے والے چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کم ازکم 28 دن کے لئے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے جس کے بعد محتاط انداز میں مرحلہ وار پابندیاں نرم کی جانی چاہئیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں یہ نہیں بتا سکتا کہ 14 اپریل کے بعد لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں کمی کی جائے گی یا ان میں مزید اضافہ ہو گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں جن سے امیر اور غریب دونوں ہی متاثر ہو رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورت حال میں یہ نہیں بتا سکتا کہ 14 اپریل کے بعد لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں کمی کی جائی گی یا ان میں اضافہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی۔

ان کا کہنا تھاکہ پاکستان  میں کورونا وائرس پھیلنے کی رفتار سست ہے جو حوصلہ افزا بات  ہے۔

پاکستانی قوم نظم و ضبط کا مظاہرہ کررہی ہے اور یہی اس وبا سے مقابلے کا واحد طریقہ ہے تاہم بعض علاقوں میں احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اور طبی عملہ ہمارے ہیروز ہیں انہیں حفاظتی سامان کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

طبی عملے کو حفاظتی سامان کی براہ راست فراہمی پر غور کیا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک کی کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

وائرس پھیلنے سے صحت کے نظام پر بوجھ پڑ سکتا ہے، کوشش ہے صورت حال قابو سے باہر نہ ہو۔ علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے حکومت سے بجلی و گیس کے بلز معاف کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

سینیٹرسراج الحق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر بجلی و گیس کے بلوں کی معافی کا اعلان کرے، حکومت روزانہ امدادی پیکیج کے اعلانات کرتی ہے مگر ابھی تک کسی کو ایک روپیہ نہیں ملا، دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ کہ کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،حکومت بچائو کیلئے سرعت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹے اور چینی سمیت اشیائے خور ونوش کی دستیابی کو یقینی بنائے۔

سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا کہ حکومت ٹائیگرز کیلئے خطیر رقم خرچ کرکے چار لاکھ شرٹس بنوار ہی ہے، یہی رقم ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملے کی حفاظت کیلئے خرچ کی جا سکتی تھی، ڈاکٹرز اور عملے کو معیاری پرسنل پروٹیکشن ایکوپمنٹس (پی پی ای) دیئے جائیں، ڈاکٹرز کے مشورے سے ایک نیا کوڈ آف کنڈیکٹ بنانے کی ضرورت ہے، کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز اور عملہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔