کورونا : غلط معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ڈی آئی جی ہزارہ ، قاضی جمیل الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کرونا کے حوالے سے غلط معلومات شیئر کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ ریجن قاضی جمیل الرحمٰن نے ہزارہ کے ڈی پی اوز کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سوشل میڈیا یا دیگر طریقوں سے کرونا وائرس کے متعلق لوگوں میں غلط معلومات یا دیگر مواد پھیلا رہے ہیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ذہنی کوفت اور اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں، ایسے تمام تر افراد کا مکمل ڈیٹا اکھٹا کرکے ریجن دفتر کو ارسال کیا جائے تاکہ ایف آئی اے کے ذریعے ایسے عناصر کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈی آئی جی ہزارہ نے کہا کہ لوگوں کو اس وقت پہلے ہی اس وباء کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے اور کچھ شرپسند عناصر اپنی سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے مزید غلط اور بغیر تصدیق کے کرونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غلط معلومات شیئر کرکے لوگوں کو مزید پریشان کرکے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے صحافی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں پولیس کا ساتھ دیں اور ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو لوگ کرونا وائرس کے متعلق سوشل میڈیا یا دیگر کسی ذرائع سے لوگوں میں غلط انفارمیشن شیئرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں ان کے متعلق پولیس کو ضرور اطلاع دیں تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ اس وقت ہم نے اپنی قوم کے حوصلے بلند کرنے ہیں تاکہ وہ اس وائرس سے لڑ سکیں اور علاقہ کا امن و امان برقرار رہ سکیں۔

واجح رہے کہ گذشتہ دنوں واٹس ایپ گروپوں میں ایک میسج تیزی سے گردش کر رہا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ 4 اپریل رات 12 بجے ملک میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ ہوجائے گا جس کے بعد حکومت کے علاوہ کوئی بھی کورونا وائرس پر بات نہیں کرسکے گا، تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے اس اطلاع کو غلط قرار دے دیا گیا تھا۔

پی ٹی اے محمد نوید کی جانب سے وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک جعلی میسج ہے جس کو مختلف گروپوں میں پھیلایا گیا ہے، برائے مہربانی مصدقہ اطلاعات کے حصول کی خاطر آفیشل ویب سائٹ کا وزٹ کریں۔

انہوں نے کہا ہے کہ کسی واٹس ایپ گروپ ایڈمن کے خلاف کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا، ملک میں سائبر کرائم ایکٹ موجود ہے، عوام جعلی خبروں کی نشاندہی کریں۔