ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد 2386 ہو گئی، 32 جاں بحق

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ملک بھر میں مزید  95 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس وبا کے مریضوں کی تعداد 2386 ہو گئی۔

وفاقی وزارت صحت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید  95 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس وبا سے کے مریضوں کی تعداد 2386 ہو گئی ہے۔ اس وائرس سے زندگی کی بازی ہارنے والے افراد کی تعداد 32 ہو گئی ہے، مبتلا افراد میں سے 9 کی حالت تشویش ناک ہے اور 107 نے اس کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے۔

کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 922 ہو گئی ہے، سندھ میں 761، خیبر پختونخوا میں 276، بلوچستان میں 169، اسلام آباد میں 62، گلگت بلتستان میں 187  جب کہ آزاد کشمیر میں 9 افراد کورونا کا شکار ہیں۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ عوام، بجلی اور گیس کے واجبات 3 ماہ میں ادا کر سکتے ہیں اور تاخیر کا نقصان حکومت برداشت کرے گی۔ دوسری طرف پی آئی اے کا خصوصی طیارہ چین سے مزید امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچ گیا۔ طیارہ 52 ٹن امدادی سامان لے کر بیجنگ سے اسلام آباد پہنچا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ کورونا سے نہیں غربت اور بیروزگاری سے بھی ہے، ہر فیصلہ زمینی حقائق سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت کورنا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے قومی رابطہ کمیٹی کا  جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء حماد اظہر، خسرو بختیار، اسد عمر، معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹنٹ جنرل محمد افضل، اور وزیرِاعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں معاون خصوصی  برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے ملک میں کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں معاشی و انتظامی اقدامات خصوصاً صوبہ سندھ سے بلوچستان اور پنجاب کو گندم کی بلاتعطل ترسیل، صنعتی یونٹس کی روانی، سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد، وفاق اور صوبوں کے درمیان روابط کی بہتری اور کورونا کے حوالے سے مصدقہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے حوالے سے لیے جانے والے اقدامات اور ان پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کثیرالضابطہ ریسرچ کمیٹی قائم کی جائےگی، کمیٹی مختلف شعبوں سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی، اور یہ سفارشات قومی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی  تاکہ ان سفارشات کی روشنی میں کمیٹی مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کر سکے۔

اجلاس میں حکومت نے  سی پیک منصوبوں پر کام کھولنے کا فیصلہ کیا اور وفاقی دارالحکومت میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے کیلئے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کی منظوری دی گئی اور کہا گیا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کا جذبہ اور خدمات لائق تحسین ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انسداد کورونا کیلئے دیگرممالک کے اقدامات کاجائزہ لیا جا رہا ہے، پاکستان میں حالات دنیا سے مختلف ہیں، ہمارا مقابلہ کورونا سے نہیں غربت اور بیروزگاری سے بھی ہے، ہر فیصلہ زمینی حقائق سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

موجودہ صورتحال میں درست اور حقائق پر مبنی ڈیٹا کی دستیابی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، درست ڈیٹا کی فراہمی کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کٹس، وینٹی لیٹرز اور دیگر آلات کی دستیابی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نجی شعبے کی 2 لیبارٹریز کو این ڈی ایم اے کی جانب سے ٹیسٹ کے آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ٹیسٹ کے اخراجات میں خاطرخواہ کمی لائی جائے گی، اس تجربے کو مدنظر رکھ کر یہ سہولت مزید 14 لیبارٹریز میں فراہم کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے معاشی ٹیم کے ساتھ ریلیف پیکج کے خدوخال پر مشاورت مکمل کرلی ہے جب کہ کل سے تعمیراتی انڈسٹری بھی  کھول دی جائے گی اور وزیراعظم عمران خان کل انڈسٹری سے متعلق پیکج کا اعلان کریں گے۔

انڈسٹری سے متعلق مزدوروں کی آمد ورفت کے لیے صوبوں کو ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مزدور طبقہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور مزدوروں کا روزگار انڈسٹری سے وابستہ ہے، غریب کے گھر کا چولہا جلے اس لیے کل تعمیراتی انڈسٹری کھول رہے ہیں۔