کورونا سے جاں بحق خاتون کے اہل خانہ میں بھی وائرس کی تصدیق

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

لوئر دیر میں کورونا سے جاں بحق ہونے والی خاتون کے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے میں بھی وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ مزید 4 قریبی رشتہ داروں کے تجزیوں کے نتائج منفی آئے ہیں۔

مذکورہ خاتون 16 مارچ کو عمرہ ادائیگی کے بعد واپس آئی تھی لیکن چند دن بعد دل کے دورے کے بعد انہیں جب پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلکس منتقل کیا گیا تو ان کی موت واقع ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق اس دوران ان کے رشتہ داروں نے ہسپتال انتظامیہ کو غلط بیانی کی تھی کہ ان کی ٹریول ہسٹری نہیں ہے لیکن ان کے موت کے بعد ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی تھی۔

لوئر دیر کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون کے 7 قریبی رشتہ داروں کے نمونے اسلام اباد بجھوائے گئے تھے جن میں 3 مثبت جبکہ 4 منفی آئے ہیں۔

جن افراد کے تجزیوں کے نتائج مثبت آئے ہیں ان میں خاتون کی دو شادی شدہ بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں جبکہ منفی آنے والے نتائج میں ان کی ایک بیٹی اور بیٹا، ایک داماد اور ایک دوسرا قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔

خیال رہے کہ خاتون کی ہلاکت کے بعد  طبی ٹیم نے ابتدائی طور پر ان کے قریب ترین 7 افراد کے نمونے لیبارٹری بھجوانے کے علاوہ گزشتہ 14 دنوں سے خاتون سے رابطہ میں رہنے والے 36 افراد کے گھر بھی قرنطینہ قرار دئے جا چکے ہیں اور کسی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ ان گھرانوں میں 23 خواتین، 39 مرد اور 22 بچے شامل ہیں۔

انتظامیہ نے ان گھروں کو قرنطینہ قرار دینے کے علاوہ 187 گھرانوں پر مشتمل دو دیہات مدینہ اباد اور زیارت کا بھی لاک ڈاون کر دیا ہے لیکن محصورین شکوہ کر رہے ہیں کہ انتظآمیہ نے ان  کے لئے اشیائے خورد و نوش کا کوئی بندوبست نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے کئی گھرانے مشکلات سے دوچار ہیں۔