جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ کا ذخیرہ اندوزی کیلئے انوکھا طریقہ اختیار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ نے کورونا وائرس کی وباء کے دوران ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کیلئے انوکھا طریقہ اختیار کرلیا، حکام نے مقامی تاجروں اور ضلع میں آنے والی اشیاائے خوردونوش کی رجسٹریشن شروع کر لی۔

صحافیوں کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر حمید اللہ خان کا اس حوالے سے کہنا  تھا کہ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری آجکل ایک بڑا مسئلہ ہے (جسے حل کرنے کیلئے) خرگئی اور گردئی کے مقام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور ایف سی ساؤتھ کے اہلکار راشن اور وانا و دیگر بازاروں کے جن تاجروں/دکانداروں کو یہ سپلائی کیا جا رہا  ہے ان کا اندراج کیا جاتا ہے، بعد میں یہ ڈیٹا اسسٹنٹ کمشنرز کو دی جاتا ہے جو بنفس نفیس وہاں جا کر دکاندار سے معلومات کرتے ہیں کہ سودا کس کو بیچا ہے، ‘اس طرح سے ہم ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت بازاروں کو خوراک کی خاطر خواہ سپلائی یقینی بناتے ہوئے ان کی قیمتوں پر بھی نظر رکھے ہوئی ہے۔

ضلع میں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کئے گئے انتظامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سات قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں جن میں 167 مریضوں کی گنجائش ہے، اس کے علاوہ وانا اور شولم کے ہسپتالوں میں دو آئسولیشن وارڈز بھی قائم کئے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ وزرستان کے مطابق ضلع کے آٹھ صحت مراکز میں 45 ڈاکٹرز، 87 نرسنگ عملہ تعینات ہے، سات ایمبولینس  گاڑیاں، چھ وینٹی لیٹرز اور 140 حفاظتی آلات مہیا کئے گئے ہیں۔

کورونا کے تدارک کیلئے جاری اقدامات کے حوالے سے حمیداللہ خان نے بتایا کہ ضلع کو لاک ڈاؤن کر دیا ہے اور تمام داخلی و خارجی راستے سیل کر دیئے گئے ہیں، راشن بھی قرنطین کئے گئے لوگوں کو دیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ رضاکاروں، علمائے کرام اور مقامی مشران کے ساتھ مل کر انتظامیہ اور ایف سی ساؤتھ عوام میں آگاہی کیلئے مشترکہ مہم بھی گذشتہ کئی دنوں سے چلائی جا رہی ہے، اس دوران مساجد اور گاڑیوں سے اعلانات کئے جا رہے ہے، گھر گھر پہنچ کر بھی عوام کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔