بدر منیر کے وفات کے بعد پشتو فلم انڈسٹری جمود کا شکار ہے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شتو فلموں کے نامور آداکار بدر منیر کی دسویں برسی مردان پریس کلب میں منائی گئی۔ اس سلسلے میں کل شام ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں پشتو فلموں اور ڈراموں کے معروف آداکار آصف خان، جمیل بابر، طارق جمال، بی بی شیرینی اور بدر منیر فاوئنڈیشن کے صدر جاوید یوسفزئی اور دیگر مقامی آدکاروں نے شرکت کی۔ پروگرام کے شراکاٗ نے مرحوم بدر منیر کی ایصال ثواب کے لئے دعا کی اور نامور آداکار کو خراج تحسین پیش کی۔

معروف آداکار جمیل بابر نے اس موقع پر کہا کہ بدر منیر ایک بہترین آداکار تھے اور انکی کارناموں کو ہمیشہ کے لئے سراہا جائیگا لیکن بدر منیر کے وفات کے بعد پشتو فلم انڈسٹری جمود کا شکار ہے اور سنیما گھر بھی ویران ہوگئے ہیں جو نہایت آفسوس کا مقام ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پشتو فلم انڈسٹری کی بحالی کے لئے اقدامات اٹھائیں اور نئے سنیما گھروں کو تعمیر کروائیں تاکہ پشتون ثقافت زندہ بچ جائے۔

پشتو ڈراموں اور فلموں کے نامور آداکار طارق جمال نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرحوم بدر منیر کی برسی کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے صوبے کی سطح پر منائی جائے۔

اس موقع پر ایک مقامی آداکار نے بدر منیر کے شہر آفاق فلم دیدن اور یوسف خان شیر بانو میں ہونے والے ڈائیلاگ کی پیروڈی کی۔

واضح رہے کہ پشتو کے نامور آداکار بدر منیر اکتوبر 2008 میں انتقال کر گئے ہیں اور انکی آداکاری کو چاہنے والے ہر سال انکی برسی مناتے ہیں۔