سعادت خان مرحوم کا بیٹا، بیٹی اور بہو بھی صحتیاب، قرنطینہ منتقل

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

دنیا بھر کی طرح پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں جہاں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں، اب تک آٹھ افراد جاں بحق ہوئے وہیں کورونا کے مریضوں کی صحتیابی کی حوصلہ افزا خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

قبائلی ضلع خیبر سے سامنے آنے والا پہلا اور واحد مریض عادل رحمٰن صحتیاب ہوئے ہیں تو مردان میں بھی آج دو مریض صحتیابی کے بعد گھر منتقل کئے جا چکے ہیں۔

مردان ہی سے ایک حوصلہ افزا خبر یہ بھی سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کے باعث جاں بحق سعادت خان مرحوم کا بیٹا، بیٹی اور بہو صحتیاب ہو کر آئسولیشن وارڈ سے قرنطینہ منتقل کر دیئے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ 18 مارچ کو خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلی دو ہلاکتیں ہوئی تھیں جن میں سے ایک مردان کے علاقے منگا درگئی سے تعلق رکھنے والا سعادت خان جبکہ دوسرا سفید ڈھیری پشاور میں رہائش پذیر 36 سالہ جوان شامل تھے۔

سعادت خان 9 مارچ کو عمرے کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے پاکستان پہنچا تھا، جاں بحق ہونے سے قبل سعادت خان سے وائرس ہزاروں افراد میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مردان کا رہائشی سعادت خان فروری میں عمرہ ادائیگی کے لیے 2 سے 3 ہفتوں کے لیے سعودی عرب میں رہا تھا اور اس دوران سعادت خان نے سعودی عرب میں ہی بخار سمیت کورونا کی علامتیں ظاہر ہونے کے باوجود انہیں پوشیدہ رکھا۔

9 مارچ کو عمرے سے پاکستان واپسی پر سعادت خان اپنے گاؤں میں ہونے والی تقریب میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں سے رابطے میں رہا، کھانے کی دعوت پر خاندان والوں سمیت گاؤں کے 2 ہزار سے زائد افراد موجود تھے، اس کے علاوہ مرحوم ایک کلینک بھی چلاتا تھا جہاں بے شمار مریضوں کے ساتھ اس کی ملاقات ہوئی تھی۔

اس دوران سعادت خان  کے گھر پر اس کی بیوی، 3 بیٹیاں، 2 بیٹے،2 بہو او ر4 پوتے پوتیوں سمیت 12 افراد بھی رہائش پذیر تھے۔

16 مارچ کو سعادت خان بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کے باعث ہسپتال پہنچا جہاں اس نے کورونا کی علامتوں کے باوجود قرنطینہ میں جانے سے انکار کردیا اور واپس گھر لوٹ آیا تھا۔

17 مارچ کو طبیعت بگڑنے پر سعادت خان کو دوبارہ ہسپتال جانا پڑا،18 مارچ کو ٹیسٹ کے نتائج میں سعادت خان میں کورونا کی تصدیق ہوئی جس کے بعد اسے آئسولیشن سینٹر بھیج دیا گیا لیکن وہ اسی دن چل بسا۔

سعادت خان کی موت پر نہ صرف ان کے خاندان پر آزمائشوں کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا بلکہ اس کے نیچے منگا یونین کونسل کا تقریباً ہر فرد بھی آگیا کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے منگا آنے جانے کے سارے رستے بند کردیئے جس سے ان کے رابطے منقطع ہوگئے اور ان پر کرفیو کا سا سماں مسلط کردیا گیا۔

یہی نہیں بلکہ سعادت خان کی میت ہسپتال سے رات بارہ بجے گاؤں پہنچائی گئی اور گھر لے جائے بغیر اسی وقت جنازہ ادا کرکے دفن کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار ہیں، 21 ہزار سے زائد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں مجموعی کیسز کی تعداد 1130 ہو گئی ہے، خیبر پختونخوا میں کل کیسز کی تعداد 124 ہے۔