”قبائلی اضلاع میں لاک ڈاؤن پکنک اور سیر سپاٹے کے لیے نہیں کیا”

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

قبائلی ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر محمود اسلم وزیر نے عوام پر زور دیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھر پر رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے اب تک کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے محمود اسلم ویر نے بتایا کہ باڑہ میں 116، لنڈی کوتل میں 130 جبکہ تیراہ میں 30 بستروں پر مشتمل قرنطینہ سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جبکہ 20، 20 بستروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈز کا انتظام بھی تینوں تحصیلوں میں کیا گیا ہے جن میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو ہنگامی بنیادوں پر بھی انتظامات کئے جا سکتے ہیں، ”ہمارے پاس فنڈز ہیں، وسائل ہیں فکرمندی کی کوئی بات نہیں ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ لوگوں کا تعاون انہیں حاصل ہے، میڈیا بھی تعاون کر رہا ہے، لوگوں نے رضاکارانہ طور پر بہت ساری مارکیٹیں بند کی ہیں جس کا کریڈٹ ہمارے لوگوں کو جاتا ہے، بازاروں کی یونینز کو جاتا ہے، “لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ تعاون کریں، اپنے گھروں سے نہ نکلیں، چند دن کی بات ہے، جب یہ وائرس ختم ہو جائے تو نکل آئیں گے باہر، ہلا گلا کریں، چکر لگائیں لیکن فی الحال اپنے گھر محلے میں نظر رکھیں اگر کسی کو بخار ہوتا ہے یا خشک کھانسی تو ہمیں رپورٹ کریں جس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انہیں جیل میں ڈالیں گے بلکہ ہم ان کا علاج کریں گے، کیئر کرتے ہیں، اس لئے اگر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا تو وہ گاؤں محلہ بہت بڑی آفت سے بچ جائے گا۔”

انہوں نے دکانداروں سے اپیل کی کہ گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں کیونکہ یہ ہمارا قومی فریضہ ہے، جب تک ہم ہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی لوگوں کو پریشان نہیں ہونا چاہئے۔

آگاہی مہم کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر خیبر نے بتایا کہ انہوں نے خود آگاہی سیشنز کئے ہیں، اے سی صاحبان میگا فونز کے ذریعے اعلانات کر رہے ہیں، علماء اور آئمہ کرام سے گزارش کی ہے، اب باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل میں گاڑیوں میں میگا فونز کے ذریعے اعلانات کئے جا رہے ہیں لوگوں کو ایجوکیٹ کر رہے ہیں، انہیں احتیاطی تدابیر بارے بتایا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ جاری و ساری رکھا جائے گا۔

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں سے متعلق سوال کے بارے میں محمود اسلم وزیر کا کہنا تھا کہ یہ میڈیا کا بھی فرض ہے اور ہمارا بھی فرض ہے کہ بہت سارے لوگ نہیں سمجھتے جنہیں ہم سمجھائیں گے، اب ہم راستے بند کر رہے ہیں، اورکزئی، کرم اور باڑہ سے تیراہ کے روابط منقطع کر دیئے ہیں باقی راستے بھی بند کر رہے ہیں، انتہائی ایمرجنسی یا خوراک کی گاڑیوں کو ہی جانے دیا جائے گا اور کسی کو اجازت نہیں ہو گی۔

انہوں نے لوگوں سے ایک بار پھر گزارش کی کہ یہ لاک ڈاؤن مزے لینے کیلئے نہیں کیا گیا کہ وہ پکنک پر چلے جائیں، اس کا مطلب یہ ہے آپ لوگ گھر پر بیٹھ جائیں اور باہر نہ نکلیں۔

ڈی سی خیبر کے مطابق انسداد پولیو کی طرح کارخانوں، بگھیاڑی چیک پوسٹ سمیت ہر انٹری پوائنٹ پر سکریننگ شروع کی جا رہی ہے، یہ ایک آفت ہے اور اس دوران گھر پر رہنا سنت ہے، ہماری شریعت، مذہب کا حکم بھی ہے کہ آفت والی جگہ سے باہر نہ جائیں، گھرون پر رہیں، باہر دوڑ دھوپ کیلئے ہم ہیں، ہمان کی خدمت اور حفاظت کیلئے سرگرم عمل رہیں گے، ان کی بڑی خدمت یہی ہو گی کہ باہر نہ نکلیں، زیادہ ضرورت ہو تو ایک ہی بندہ گھر سے باہر نکلے اور ایک دوسرے پر نظر رکھیں اور اگر کسی میں بخار یا کھانسی کی شکایت ہو تو ہمیں رپورٹ کریں، اسے کمرے تک محدود رکھیں اور اس سے اپنی حفاظت کریں۔

کورونا کیسز بارے ان کا کہنا تھا کہ ایک کیس ہی سامنے آیا ہے شلوبر باڑہ میں جو پشاور کے ہسپتال میں زیر علاج ہے، اس کے علاوہ گزشتہ روز پسیدخیل میں ایک شخص کے بارے میں اظلاع ملی کہ لاہور کے ہسپتال سے بھاگ نکلا ہے جسے رات کے ڈیڑھ بجے گھر سے نکال کر پشاور ہسپتال منتقل کیا ہے، اسی طرح کل ہمیں اطلاع ملی کہ ایک شخص لاہور سے لڈی کوتل جا رہا ہے جسے کارخانوں چیک پوسٹ پر روکنے اور پوری تسلی دینے کے بعد جانے دیا فیا۔