خیبر پختونخوا : کورونا کے مزید 7 کیسز، ملک میں مجموعی تعداد 812 ہو گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید سات کیسز سامنے آگئے جس کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 812 ہوگئی۔

کورونا وائرس سے متعلق حکومتی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران مزید 35 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد سندھ میں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 352 ، پنجاب میں 225، بلوچستان میں 108، گلگت بلتستان میں 71، خیبر پختونخوا میں38 اور اسلام آباد میں15 مریض موجود ہیں جبکہ 6 افراد صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں اس وباء سے ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں آج سات کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 3 پشاور سے، دو مانسہرہ جبکہ بونیر اور کرک سے ایک ایک کیس شامل ہے۔ اس کے ساتھ پشاور میں کورونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 10، مانسہرہ میں 3 جبکہ صوبہ بھر میں یہ تعداد 38 ہو گئی ہے۔

ملک بھر میں فوج تعینات

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں فوج تعینات کردی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز اور چاروں صوبوں میں لاک ڈان کے بعد اب ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزارت داخلہ نے وفاق، پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فوج تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔

پنجاب میں بھی لاک ڈاؤن

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے منگل سے صوبے بھر میں 14 روز کے لیے لاک ڈان کا اعلان کردیا ہے، اعلان کے مطابق 24 مارچ سے 6 اپریل تک عوامی مقامات بند رہیں گے، پنجاب میں ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی۔

پنجاب کی فوج سے مدد طلب

محکمہ داخلہ پنجاب نے باضابطہ طور پر وفاق سے فوج کی مدد طلب کرلی ہے۔ وفاق کو بھجوائے گئے مراسلے میں کرونا وائرس سے ہیدا شدہ صورتحال کا ذکر کیا گیا ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے پاک فوج کی مناسب تعداد مختص کی جائے۔

‘کورونا وائرس کی وباء ہمارے لیے ایک امتحان’

یوم پاکستان کی مناسبت سے اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قوم آج کا دن ایسے حالات میں منا رہی ہے جب پوری دنیا ایک بڑے خطرے سے دوچار ہے، کورونا وائرس کی وباء نے ہمارے ملک کو بھی متاثر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وباء ہمارے لیے ایک امتحان ہے، سیاسی قیادت کو اس عزم و حوصلے کی پیروی کرنی چاہیے جس کا مظاہرہ قرارداد پاکستان کو منظور کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔

بلاول کے مطابق ہمیں ملک گیر لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ دیگر حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، تمام ادارے کورونا کی وبا کا مِل کر مقابلہ کرکے اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیں۔

‘یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے’

اپنی ٹویٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 23 مارچ کا جذبہ قیام پاکستان کا باعث بنا، آج اسی جذبے کے تحت ہمیں یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہم میں کوئی تقسیم نہیں،عوام کا تحفظ، سلامتی اور صحت ہم سب کی ترجیح ہے، وباء پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کاوشوں کو تقویت دینا ہے۔

کراچی اور سکھر ائیرپورٹ بند

کورونا وائرس کے پھیلا کے پیش نظر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 24 مارچ سے کراچی اور سکھر ایئرپورٹ غیر معینہ مدت کے لئے بند کرنے کا اعلان کردیا۔

کورونا تیسرے فیز میں داخل

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کس درجے ( کیٹگری ) کا ہے ابھی حکومتی سطح پر تعین نہیں کیاجا سکا تاہم اس وقت ایشیائی ممالک میں ایران کو کورونا سے متاثرین کی فہرست میں سرفہرست دیکھا جارہا ہے جب کہ پاکستان میں کورونا کی کیٹگری 2 یعنی دوسرے درجہ دیا جارہا ہے جبکہ ابھی تک اس بات کا بھی تعین نہیں کیا جاسکا کہ پاکستان میں وائرس سے ہونے والی شرح اموات کا تناسب کتنا ہے اور پاکستان میں کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اور آئندہ وائرس کے پھیلنے کی رفتار کیا ہو گی تاہم پاکستانی عوام اس وائرس کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بے خبر ہیں، پاکستان میں وائرس اب تیسرے فیز (مرحلے) میں داخل ہو رہا ہے جس میں وائرس کی شدت میں بھی تیزی آجائے گی۔

سندھ میں لاک ڈاؤن

کورونا کے پھیلاو کو روکنے کے لیے سندھ میں رات 12 بجے سے لاک ڈاون شروع ہو گیا ہے جو کہ 15 روز تک جاری رہے گا۔ لاک ڈان کو کئیر فار یو کا نام دیا گیا ہے، لاک ڈاون کے دوران انتہائی ضرورت کے سوا شہریوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی ہے۔ اشیائے صرف کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز کھلے ہیں۔

شہباز شریف کورونا ٹیسٹ کرائیں

طبی ماہرین نے ن لیگ کے صدر شہباز شریف کو فوری کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ وہ کم از کم 14دن قرنطینہ کا عمل اختیار کریں تاکہ ان سمیت دیگر افراد کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

فواد چوہدری کا کورونا ٹیسٹ

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنی وڈیو میں کہا ہے کہ وہ 3 روز قبل امریکا سے واپس آئے ہیں اور اپنے کورونا ٹیسٹ بھی کروائے ہیں، وطن واپسی پر ناصرف خود کو محدود کرلیا ہے بلکہ مکمل آئسولیشن میں ہیں اور اپنے گھر والوں سے بھی نہیں ملے۔

کورونا وائرس سے بچا کی احتیاطی تدابیر:

1: عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اگرآپ تندرست ہیں تو طبی نوعیت کا این 95 ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ۔ اس کی جگہ سادہ ماسک بھی پہنا جاسکتا ہے۔ لیکن ماسک کو درست طریقے سے پہننا بہت ضروری ہے جس میں خیال رکھا جائے کہ ماسک اور چہرے کے درمیان کو جھری کھلی نہ رہ جائے۔

تاہم ڈسپوزایبل ماسک کو ٹھکانے لگانا بہت ضروری ہے ۔ اگرچہ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس انسانی جسم سے باہر بہت دیر تک سرگرم نہیں رہ سکتا لیکن ڈسپوزایبل ماسک کو دفنانا ہی ضروری ہے۔

2:کسی الکحل والے محلول یا اینٹی سیپٹک صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں، ہاتھ دھونے کا عمل کم ازکم ایک منٹ تک ہونا چاہئے جس سے انفیکشن سے بچنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

3: اگر آپ کھانسی اور نزلے میں مبتلا ہیں تو ماسک پہنیں اور ماسک پہننے اور اتارنے کے بعد جراثیم کش صابن سے بھی ہاتھ دھوئیں۔

4: بھیڑ اور ہجوم والی جگہوں سے اجتناب کریں اور لوگوں سے فاصلہ رکھیں۔

5: آنکھوں، ناک اور منہ کو بار بار چھونے سے گریز کریں۔ اس صورت میں ہاتھوں پر موجود نادیدہ وائرس جسم کے اندر جاسکتے ہیں۔

6: پانی ابال کر پیئیں، ہاتھ دھونے اور وضو کو اپنا معمول بنائیں۔