‘ایتھنول ہی کرونا وائرس کا خول توڑ کر اس کو ختم کر دیتا ہے’

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کروناوائرس وباء پھیلنے کے بعد جیسے ہی ماہرین نے صفائی کے لئے سینیٹائزر کا استمال اہم قرار دیا تو خریداری بڑھنے کے ساتھ یہ پراڈکٹ بعض علاقوں میں مارکیٹ سے مکمل طور پر غائب ہو گئی یا 200 والی بوتل 800 اور ہزار روپے تک پہنچ گئی۔

غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہونے کے بعد اگر ایک طرف کچھ لوگوں نے گھروں میں سینیٹائزر بنانے کی کوششیں کیں اور اپنے فارمولے باقاعدہ طور پر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کردیئے تو وہی مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے مائیکرو بیالوجی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر حاظر رحمان نے بھی اس مسئلے کا حل نکال لیا اور اپنی لیبارٹری میں ہی سینیٹائزر بنا ڈالا۔

حاظر رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بنایا گیا سینیٹآئزر دیگر عام لوگوں کی طرح گھریلو ٹوٹکوں جیسا نہیں بلکہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس حوالے سے جاری کئے گئے فارمولے اور معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔

ٹرائبل پریس سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حاظر رحمان نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے فارمولے کے مطابق سینیٹائز میں ایتھنول، H22 اور گلیسرول نامی کیمیکلز کی مخصوص مقدار ایک خاص طریقے سے مکس کی جاتی ہے جبکہ مارکیٹ میں مہنگے داموں دستیاب بے شمار دیگر سینیٹائزرز بھی اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ‘ سینئٹائزر میں ایتھنول کی مقدار برابر رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ ایتھنول ہی کروناوائرس کا خول توڑ کر اس کو ختم کر دیتا ہے’ انہوں نے کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا کی وباء پھیل جانے کے بعد جیسے ہی مارکیٹ سے سینیٹائزر غائب ہوا تو انہوں نے خود اسے بنانے کا ارادہ کیا۔ ‘چونکہ ہمارے ساتھ لیبارٹری میں اس میں استمال ہونے والے تمام کیمیکلز دستیاب تھے تو میں نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اسے تیار کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالے کیا جنہوں نے بعد میں اسے یونیورسٹی میں کرونا مریضوں کے لئے بنائے جانے والے قرنطینہ مرکز میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اور سکیورٹی گارڈز کے اہلکاروں میں تقسیم کیا۔’

ڈاکٹر حاظر رحمان کا کہنا تھا کہ سینیٹائزر میں استعمال ہونے والے کیمیکلز میں سب سے مہنگا ایتھنول ہے اور اگر حکومت انہیں یہ کیمیکل فراہم کرے تو سارے شہر کی ضرورت پوری کرنے کے لئے سینیٹائزر بنا سکتے ہیں کیونکہ دیگر کیمیکلز ان کے پاس پہلے سے ہی دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں پڑے سینئٹائزر زیادہ تر لوکل بنے ہوئے ہیں جس کے کرونا وائرس کے خلاف موثر ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں جبکہ یہ سینئٹائزر جو کہ ڈبلیو ایچ او کی ریسرچ اور معیار کے مطابق ہے تو ہم اس کی گارنٹی لیتے ہیں کہ یہ اینٹی کرونا وائرس سینیٹائزر ہے اور اگر ہم زیادہ مقدار میں بنا سکے اور لوگ اسے استعمال کر سکیں تو کرونا وائرس کی پھیلی ہوئی وباء پر قابو پا سکتے ہیں۔