کورونا : مردان میں جراثیم کش سپرے جاری

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

مردان میں کورونا وائرس کے باعث ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ریسکیو 1122 کی جانب سے صوبائی حکومت اور سیکرٹری ریلیف، بحالی و آبادکاری کے ہدایات پر عمل جاری ہے۔

ریسکیو ون ون ٹوٹو مردان کے انچارج کمال شاہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 اور کمشنر مردان کے احکامات پر ریسکیو 1122 مردان سٹی کے مختلف علاقوں میں جراثیم کش سپرے کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 تحصیل تخت بھائی، کاٹلنگ اور رستم میں بھی سپرے کر رہا ہے، ریسکیو 1122 کی 4 بڑی آگ بجھانے والی گاڑیوں کے مدد سے مردان سٹی میں جراثیم کش سپرے کیا جارہا ہے۔

کمال شاہ نے بتایا کہ 3 اور بڑی آگ بجھانے والی گاڑیوں کی مدد سے مردان کے دوسرے تحصیلوں میں جراثیم کش سپرے کیا جارہا ہے جبکہ ایک گاڑی کو کاص طور پر متاثرہ علاقے منگاہ کیلئے مختص کیا گیا ہے جو وہاں روزانہ کی بنیاد پر سپرے کرے گا۔

کمال شاہ نے کہا کہ وائرس سطح پر رہتا ہے اور امید ہے کہ سپرے کے اچھے نتائج برآمد ہونگے جبکہ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 سمیت تمام سٹاف 24 گھنٹے الرٹ ہے۔

خیال رہے کہ منگاہ کا رہائشی سعادت خان چند روز قبل کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد جاں بحق ہوگیا تھا۔ سعادت خان 9 مارچ کو عمرہ ادائیگی کے بعد پشاور ائیرپورٹ سے واپس پاکستان آئے تھے لیکن واپسی کے بعد ائیرپورٹ میں ان سمیت کسی بھی مسافر کی سکریننگ نہیں کی گئی تھی۔

ان کے بیٹوں نے والد کی عمرہ سے واپسی کے بعد تمام گاؤں والوں کے لئے دعوت کا اہتمام بھی کیا تھا جس میں شرکت کرنے والے تقریباً ہر فرد نے سعادت خان کو گلے مل کر مبارکباد دی تھی۔ اس کے علاوہ سعادت خان نے واپسی کے بعد اپنی ڈسپنسری کی دوکان میں بھی اس ایک ہفتے کے دوران درجنوں لوگوں کا علاج کیا تھا یا لوگ ان سے دوائی لے کر گئے تھے۔

سعادت خان میں کورونا وائرس کا شبہ ان کی واپسی کے تقریباً ایک ہفتے بعد 16 مارچ کو اس وقت ہوا جب وہ معمولی بخار اور طبیعت کی ناسازی پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال مردان چلے گئے اور وہاں پر ڈاکٹر نے شبہ پڑنے پر ان کے نمونے اسلام آباد میں نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ بھیج دیئے۔

نمونے بھیجنے کے بعد ڈاکٹر نے انہیں ہسپتال میں سب سے الگ تھلگ وارڈ یعنی قرنطینہ میں داخل ہونے کا کہا لیکن انہوں نے بجائے ہسپتال میں رکنے کے گھر پر قرنطینہ ہونے پر اصرار کیا اور واپس گھر چلے گئے۔ لیکن ایک دن بعد ٹیسٹ کے نتائج مثبت آنے پر محکمہ صحت کی ایک ٹیم ان کے گھر چلی گئی اور انہیں مردان میڈیکل ہسپتال کے قرنطینہ سنٹر میں منتقل کیا گیا جہاں چند ہی گھنٹوں بعد ان کی موت واقع ہوئی۔