جانبحق ہونے والے سعادت خان کا سوئم بھی نہیں کرنے دیا گیا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

مردان کے علاقے منگاہ میں کرونا وائرس سے 50 سالہ سعادت خان کی ہلاکت کے بعد پوری یونین کونسل کے لاک ڈاؤن کے چار روز گزر گئے اور اس دوران مقامی افراد کے مطابق نہ تو حکومت کی جانب سے انہیں کوئی راشن فراہم کیا گیا نہ ہی ان کے لئے حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔

منگا کے رہائشی مدثر اعوان کا کہنا ہے کہ آج صبح بھی مقامی لوگوں نے چند دوکانداروں کو دوکانیں کھولنے پر مجبور کیا تھا کیونکہ گھروں میں راشن ختم ہوچکا تھا لیکن پولیس نے فوراً وہ دوکانیں بھی بند کرادیں۔

ضلعی انتظامیہ نے اپنی طرف سے چند گھریلو ضروریات کے سامان سے لدی گاڑیاں علاقے میں بھیج دی تھیں لیکن مقامی افراد بضد تھے کہ یہ راشن انہیں مفت فراہم کیا جائے کیونکہ لاک ڈاؤن سے تقریباً سب لوگوں کے کاروبار بھی بند ہیں اور مزدوری بھی نہیں مل رہی، لوگوں کے احتجاج کے بعد وہ سامان بھی واپس کردیا گیا۔

مدثر نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہئے کہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو اپنے پن کا احساس دلائے بجائے اس کے کہ ان کے لئے مزید مشکلات پیدا کرے۔

مقامی رہائشی کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے علاقے میں کرفیو کا سماں ہے، داخلی و خارجی راستوں پر پولیس اور فوج کے اہلکار کھڑے ہیں اور تمام دوکانیں بند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منگا یونین کونسل کی مجموعی آبادی 25 سے 30 ہزار کے درمیان ہے جس میں زیادہ تر لوگ روزانہ اجرت مزدوری کرنے والے لوگ ہیں جن کے گھروں میں تقریباً فاقے پڑ چکے ہیں۔

‘جو صاحب استطاعت لوگ ہیں وہ تو پھر بھی کسی نہ کسی طریقے سے علاقے کے دوکانداروں کو مجبور کرکے دوکانیں کھلوا دیتے ہیں اور کھاتے میں راشن لے آتے ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ ان مزدوروں کا ہے جن کے چولہے بجھ چکے ہیں اور اگر حکومت نے ایک دو دن میں انہیں راشن مہیا نہیں کیا تو یہ لوگ لاک ڈاؤن توڑ بھی سکتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی اہلکار صرف مین روڈ پر کھڑے ہیں اور دیگر بہت ایسے راستے ہیں جہاں سے لوگ آسانی سے یہاں سے نکل سکتے ہیں’ مدثر نے کہا۔

الخدمت فاونڈیشن سمیت چند فلاحی تنظیموں نے اس علاقے میں مفت راشن اور ماسک وغیرہ تقسیم کرنے کا عمل شروع کیا ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بھی بہت ہی محدود گھرانوں کو مل رہا ہے۔

مدثر اعوان اپنے علاقے میں کبھی کبھار سماجی کام بھی کرتے ہیں اور سعادت خان کے کیس کے بعد اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ اپنے حلقہ احباب میں جا کر بھی لوگوں کو کرونا سے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر بھی بتاتے رہتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں حکومت کی کارکردگی بالکل صفر ہے۔ ‘آج تک کسی بھی حکومتی اہلکار نے نہ تو لوگوں میں ماسک تقسیم کئے ہیں اور نہ ہی انہیں اس سلسلے میں کسی قسم کی احتیاطی تدابیر بیان کی ہیں، انتظامیہ نے ان لوگوں کو صرف گھروں میں قید کرکے رکھ دیا ہے جبکہ ان کے بچاؤ کا حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نظر نہیں آ رہا۔’

انہوں نے شکوہ کیا کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے ڈی آئی خان میں قرنطینہ میں رکھے گئے افراد کے اہل خانہ کو مفت راشن فراہم کرنے کی ہدایات تو جاری کردی ہیں لیکن مردان کے ایسے متاثرین سے شاید وہ ابھی تک بے خبر ہیں۔

لاک ڈاون کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

سعادت خان 9 مارچ کو عمرہ ادائیگی کے بعد پشاور ائیرپورٹ سے واپس پاکستان آئے تھے لیکن واپسی کے بعد ائیرپورٹ میں ان سمیت کسی بھی مسافر کی سکریننگ نہیں کی گئی تھی۔

ان کے بیٹوں نے والد کی عمرہ سے واپسی کے بعد تمام گاؤں والوں کے لئے دعوت کا اہتمام بھی کیا تھا جس میں شرکت کرنے والے تقریباً ہر فرد نے سعادت خان کو گلے مل کر مبارکباد دی تھی۔ اس کے علاوہ سعادت خان نے واپسی کے بعد اپنی ڈسپنسری کی دوکان میں بھی اس ایک ہفتے کے دوران درجنوں لوگوں کا علاج کیا تھا یا لوگ ان سے دوائی لے کر گئے تھے۔

سعادت خان میں کرونا وائرس کا شبہ ان کی واپسی کے تقریباً ایک ہفتے بعد 16 مارچ کو اس وقت ہوا جب وہ معمولی بخار اور طبیعت کی ناسازی پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال مردان چلے گئے اور وہاں پر ڈاکٹر نے شبہ پڑنے پر ان کے نمونے اسلام آباد میں نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ بھیج دیئے۔

نمونے بھیجنے کے بعد ڈاکٹر نے انہیں ہسپتال میں سب سے الگ تھلگ وارڈ یعنی قرنطینہ میں داخل ہونے کا کہا لیکن انہوں نے بجائے ہسپتال میں رکنے کے گھر پر قرنطینہ ہونے پر اصرار کیا اور واپس گھر چلے گئے۔ لیکن ایک دن بعد ٹسٹ کے نتائج مثبت آنے پر محکمہ صحت کی ایک ٹیم ان کے گھر چلی گئی اور انہیں مردان میڈیکل ہسپتال کے قرنطینہ سنٹر میں منتقل کیا گیا جہاں چند ہی گھنٹوں بعد ان کی موت واقع ہوئی اور یوں پاکستان میں بھی اس مہلک وائرس سے پہلی موت ریکارڈ ہوگئی۔

سعادت خان کی موت پر نہ صرف ان کے خاندان پر آزمائشوں کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا بلکہ اس کے نیچے منگا یونین کونسل کا تقریباً ہر فرد بھی آگیا کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے منگا آنے جانے کے سارے رستے بند کردیئے جس سے ان کے رابطے منقطع ہوگئے اور ان پر کرفیو کا سا سماں مسلط کردیا گیا۔

مدثر کے مطابق سعادت خان کی میت ہسپتال سے رات بارہ بجے گاؤں پہنچائی گئی اور گھر لے جائے بغیر اسی وقت جنازہ ادا کرکے دفن کر دی گئی۔ ‘جس طرح میت کے گھر سوئم تک دعائے مغفرت کی روایت ہے وہ بھی پوری نہیں کی گئی کیونکہ ایک طرف محکمہ صحت کے اہلکار ان کے تمام گھر والوں کو قرنطینہ لے گئے تھے اور دوسری جانب پولیس نے بھی ہر قسم کے اجتماع پر پابندی لگائی ہے۔’ انہوں نے کہا۔

ٹرائبل پریس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعادت خان کے عزیز و اقارب کے جو 27 افراد عبدالولی خان یونیورسٹی میں بنے قرنطینہ ٹسٹس کے لئے لے جائے گئے تھے انہیں ایک دن بعد وہاں سے واپس اس حالت میں بھیج دیا گیا کہ انہیں گاڑی تک نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا ‘کسی کو اتنا بھی خیال نہیں آیا کہ ابھی تک ان لوگوں کے ٹسٹس کے رزلٹس بھی نہیں آئے اور یہ لوگ دیگر لوگوں کے لئے خطرہ ہیں اور دوسری بات یہ کہ یہ لوگ کتنے بڑے کرب سے گزر رہے ہیں’

متاثرین کے ساتھ حکومت کے اس سلوک کے خلاف گزشتہ روز اس وقت درجنوں لوگوں نے چیک پوسٹس کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا جب محمکہ صحت کے ارکان دوبارہ ان لوگوں کو ہسپتال لے جانے کے لئے آئے لیکن پھر انہیں اچھے برتاو اور قرنطینہ میں بہتر سہولیات کی یقین دہانی کرائی گئی تو احتجاج ختم کرکے ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوگئے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں ابھی تک کرونا کے 25 مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 15 وہ ہیں جو ایران سے واپس آئے تھے اور ان تمام کو دیگر لوگوں میں گڈ مڈ ہونے سے پہلے ڈی آئی خان میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جبکہ دیگر 9 افراد جن علاقوں سے سامنے آئے ہیں ان کے تمام علاقوں کو لاک ڈاون کیا گیا ہے۔