حیات آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس، پوری گلی قرنطینہ قرار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

صوبائی دارالحکومت کے پوش علاقے حیات آباد میں کورونا وائرس کے ممکنہ کیسز سامنے کا خدشہ ہے جہاں ایک استاد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

متاثرہ مریض کا نام افتخار ہے جن کی عمر 50 سال جبکہ اسلامیہ کالج کے شعبہ قانون میں پرفیسر ہیں اور حیات آباد فیز تھری میں ایک دو منزلہ مکان کی نچلے فلور پر اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، اوپری منزل میں مالک مکان رہتا ہے۔

پروفیسر افتخار میں وائرس کی تصدیق کے بعد ان کی گلی کو قرنطینہ قرار دیدیا گیا ہے جبکہ قریب واقع اباسین مارکیٹ اور یوسفزئی مارکیٹ بھی سیل کر دی گئی ہے، یوسفزئی مارکیٹ میں صرف نانبائی کو کام کرنے کی اجازت ہے۔

ٹی این این کو موصول معلومات کے مطابق پروفیسر افتخار 7 مارچ کو اسلام آباد ائیرپورٹ اپنے لندن پلٹ بھائی کو لینے گئے تھے، ان کے بھائی کو جسم میں درد اور بخار کی شکایت تھی جس پر 9 یا 10 مارچ کو وہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال ھئے جہاں ان کے نتھنوں اور گلے سے سیمپل لئے گئے اور انہیں گھر بھیج دیا گیا۔

ہسپتال سے فراغت کے بھائی پروفیسر افتخار واپس حیات آباد جبکہ ان کے بھائی مانسہرہ میں اپنے گھر چلے گئے۔

16 مارچ کو اعجاز میں وائرس کی تصدیق ہوئی، اس دوران افتخار ایبٹ آباد کے سی ایم ایچ ہسپتال میں زیرعلاج والدہ کی عیادت کرنے گئے جہاں سے وہ اپنے بھائی کو ملنے مانسہرہ چلے گئے جو اپنے گھر میں نظربند کئے گئے تھے۔

17 مارچ کو پروفیسر افتخار واپس پشاور آئے اور اگلے روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال سکریننگ کیلئے گئے جہاں وائرس کی تصدیق ہونے پر انہیں پولیس اینڈ سروسز ہسپتال ریفر کیا گیا۔

درایں اثناء پروفیس افتخار کی اڑوس پڑوس میں رہنے والے متعدد افراد سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے اس ایریا سے مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

فی الحال ان کے خاندان اور اروس پڑوس میں رہننے والے تمام نرینہ افراد کو کوروا وائرس اور اس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا گیا ہے، پوری گلی قرنطینہ قرار دی جا چکی ہے جبکہ قریبی مارکیٹوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق قرنطینہ میں موجود گلی کے رہائیشیوں کو راشن فراہم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس وقت ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 464 ہو گئی ہے جبکہ اب تک دو افراد اس مہلک بیماری کا شکار ہو کر ابدی نیند سو چکے ہیں۔