پختونخواہ سے کرونا کے پہلے کیسز، حکومت کے مزید سخت اقدامات

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور، مردان اور بونیر میں کرونا کے پہلے کیسز سامنے آۓ ہیں جن کے ساتھ صوبے بھر میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے وائرس کی روک تھام کے لئے مزید اقدامات اٹھانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق مردان کا مریض مردان میڈیکل کمپلکس، بونیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جبکہ تیسرا مریض پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل ہے اور سب کا علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ تینوں مریض مختلف ممالک سے واپس اپنے ملک آئے ہیں جن کے خاندان کے دوسرے افراد کے بھی ٹسٹ لئے جائیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پشاور میں داخل مریض کا تعلق ہنگو سے ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے صوبائی حکومت نے کچھ مزید سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جن میں شادی ہالوں کے علاوہ اب گھروں اور ھجروں میں شادی اور دیگر تقریبات پر پابندی لگانا، حجام دوکانوں اور بیوٹی پارلروں کو 15 دن کے لئے بند کرنا بھی شامل ہیں۔

پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کریانہ اور فارمیسی سٹورز کے علاوہ باقی تمام ضروری اشیاء کی دوکانوں کو صرف صبح دس سے شام سات بجے تک کھلنے کی اجازت ہوگی جبکہ دیگر اشیاء کے تمام مارکیٹس بند رہیں گے۔ ہوٹلز اور ارد گرد کھانے پینے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے لیکن عوام ہوٹل سے گھر کھانے لے جا سکتے ہیں۔

صوبائی حکومت نے اطلاعات اور صحت کے وزارتوں کےعلاوہ دیگر تمام وزارتیں بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور  احکامات جاری کئے ہیں کہ کسی سرکاری اجلاس میں 5 سے زیادہ لوگ شرکت نہیں کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے نجی دفاتر کو دفتروں میں اور بینکوں کو اے ٹی ایم مشینوں کے ساتھ سینیٹائزر رکھنے کی تاکید کی ہیں۔

حکومت نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے ایک ہیلپ سنٹر بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

صوبے میں کرونا کے پہلے 15 کیسز ایران سے آنے والے زائرین میں سے سامنے آئے تھے جبکہ سولواں کیس ایبٹ اباد سے ہے اور وہ بھی چند دن پہلے برطانیہ سے ملک واپس آیا ہے۔

پاکستان میں اب تک 249 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہیں جن میں سب سے زیادہ 181 سندھ، 26 پنجاب، 16 بلوچستان، 5 گلگت بلتستان جبکہ دو کا تعلق اسلام اباد سے ہیں۔

پشاور اور مردان میں آج سامنے آنے والے کرونا کے دونوں مریض جاں بحق

پشاور اور مردان میں کرونا سے متاثر دونوں مریض انتقال کرگئے۔ دونوں مریضوں میں آج ہی کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

مشیر اطلاعات اور کرونا کے لئے صوبائی حکومت کے فوکل پرسن اجمل وزیر نے کہا ہے کہ مردان میں جانبحق ہونے والا شخص سعادت خان 9 مارچ کو عمرہ ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے واپس پاکستان آیا تھا جو کہ منگاہ کا رہائشی تھا۔ سعادت خان کی عمر 50 سال تھی اور ان کے کرونا ٹسٹ کا نتیجہ آج ہی مثبت آیا تھا۔

ہسپتال زرائع نے بتایا ہے کہ جانبحق ہونے والا شخص ٹی بی کا بھی مریض تھا لیکن ان کی موت کرونا سے ہوئی ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج ہنگو کے رہائشی 36 سالہ مریض کے موت کی بھی تصدیق کردی ہے۔ یہ مریض بھی چند دن پہلے متحدہ عرب امارات سے واپس آیا تھا اور پشاور کے علاقے سفید ڈھیری میں رہائش پذیر تھا۔

یاد رہیں کہ پاکستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ ان میں ہونے والی یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔

کورونا سے ہلاکت کے بعد مردان کا یوسی لاک ڈاون کردیا گیا

مردان میں کورونا وائرس سے ایک شخص کے جاں بحق ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ یوسی کو لاک ڈاون کردیا۔

اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یونین کونسل منگا سے کسی کو باہر جانے یا اندر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر نے پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو آگاہ کردیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یونین کونسل میں آنے جانے پر پابندی عوام کی بھلائی کے لئے لگائی گئی ہے۔

مردان میڈیکل کمپلیکس میں کورونا وائرس سے جاں بحق شخص سعادت خان کا تعلق یونین کونسل منگا سے تھا جو ایک ہفتہ پہلے عمرے سے آیا تھا۔ سعادت خان کی عمر 50 سال تھی اور ان کے کرونا ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔ ہسپتال زرائع نے بتایا ہے کہ جاں بحق ہونے والا شخص ٹی بی کا بھی مریض تھا لیکن ان کی موت کورونا سے ہوئی ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج ہنگو کے رہائشی 36 سالہ مریض کے موت کی بھی تصدیق کردی ہے۔ یہ مریض بھی چند دن پہلے متحدہ عرب امارات سے واپس آیا تھا اور پشاور کے علاقے سفید ڈھیری میں رہائش پذیر تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ ان میں ہونے والی یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔