طورخم بارڈر سیل : فروٹ و سبزیوں کے خراب ہونے کا خدشہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کورونا وائرس کی روک تھام کی خاطر 14 دنوں کیلئے طورخم بارڈر سیل کرنے سے اربوں روپے مالیت کی سبزیاں، فروٹ، چکن اور ٹرانزٹ کنٹینرز پھنس گئے ہیں جن میں سے کروڑوں مالیت کا سامان ہفتے کے اندر خراب ہونے کا اندیشہ ہے جس کے باعث تاجر شدید پریشان ہیں۔

واضح رہے کہ ان گاڑیوں کی کلیئرنس سمیت ان کو باقاعدہ گیٹ پاس جاری کئے گئے ہیں لیکن گیٹ بند ہونے کی وجہ سے طورخم بارڈر پر کھڑے ہیں جن میں زیادہ تر فریش آئٹم ہیں جس کے خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے آل پاکستان ایگریکلچرل پروڈیوس ٹریڈرز فیڈریشن کے مرکزی صدر ملک سوہنی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے ہم حکومت کے ساتھ ہیں۔

یاد رہے کہ طورخم بارڈر 16 مارچ کی جگہ 15 مارچ کو رات 9 بجے سے بند کردیا گیا جس کی وجہ سے جن مال بردار گاڑیوں کی کلیئرنس اور گیٹ پاس جاری ہو چکے ہیں، وہ بھی طورخم بارڈر پر پھنس گئے ہیں جنہیں فوری طور پر کراس نہ کروایا گیا تو اربوں روپے کا نقصان ہو جائیگا اور اگر حکومت چاہے تو تین گھنٹوں کے اندر اندر یہ گاڑیاں گیٹ پاس ہو سکتی ہیں۔

آل پاکستان ایگریکلچرل پروڈیوس ٹریڈرز فیڈریشن کے مرکزی صدر ملک سوہنی نے دھمکی دی ہے کہ اگر فوری طور پر گاڑیوں کو بارڈر پاس نہ کیا گیا تو وہ شدید احتجاج کریں گے۔