حکومت اور عدلیہ، خیبر لیویز کے تربیتی مرکز پر قبضے کے لیے کوشاں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ، ضلع خیبر کے قبائلی علاقے میں امریکی فنڈز سے زیر تعمیر شاکاس لیویز ٹریننگ سینٹر پر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں جب کہ فنڈ دینے والے اصرار کررہے ہیں کہ اس سہولت کو خاص طور پر اس مقصد کے لیے ہی استعمال کیا جانا چاہیے جس کے لیے امریکی کانگریس نے فنڈز کی منظوری دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ضلع خیبر کی عدلیہ پشاور میں اپنے عبوری احاطے سے عارضی طور پر تربیتی مرکز منتقل ہونا چاہتی ہے۔ دوسری جانب صوبائی کابینہ نے 25 فروری کو ہونے والے اجلاس میں اس سہولت کو ریسکیو 1122 کے تربیتی مرکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ امریکی بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ افیئرز پاکستان، جس نے شاکاس میں تربیتی مرکز کی تعمیر کے لیے 59 لاکھ ڈالر فنڈز فراہم کیے، نے کسی اور مقصد کے لیے اس سہولت کے استعمال کی شدید مخالفت کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی این ایل، جس نے دوسرے منصوبوں کو بھی مالی اعانت فراہم کی، نے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی سے نہ صرف حکومت اور فنڈ دینے والوں کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہوں گی بلکہ اس کی وجہ سے صوبے کو آئندہ ملنے والی مالی امداد بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

آئی این ایل (پاکستان) نے حکام کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی کانگریس کے ذریعے فنڈز کو کسی خاص مقصد کے لیے منظور کیا جاتا ہے اور اس سہولت کا مقصد اسی مقصد کے لیے ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق فنڈز یا سہولت کے استعمال کے طریقہ کار میں کسی بھی طرح کی خلاف ورزی نہ صرف شدید تشویش پیدا کردے گی بلکہ امریکی حکومت کے ذریعے تمام شعبوں میں مزید امداد روکنے کا باعث بنے گی۔

اس حوالے سے آئی این ایل کے عوامی امور کے سربراہ اسکاٹ رابنسن کی جانب سے ڈان اخبار کے نمائندے کی ای میل کا جواب نہیں دیا گیا۔ ضلع میں ترقیاتی کاموں سے متعلق ایک عہدیدار نے بتایا کہ ‘موجودہ صورتحال میں ہم صوبائی حکومت اور عدلیہ کے درمیان سینڈویچ بن رہے ہیں’۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے ٹریننگ سینٹر کے قبضے پر نگاہیں طے کی ہیں لیکن اس نے لیویز فورس کے منصوبے اور تربیت کے لیے بھرتی کیے گئے وزارتی عملے سمیت 35 کے قریب ملازمین کو نظرانداز کردیا ہے۔

لیویز ٹریننگ سینٹر کے ایک ملازم نے بتایا کہ ‘حکومت صرف جائیداد پر قبضہ کرنے میں دلچسپی لیتی ہے اور وہ ہمیں اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی’۔

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقہ شاکاس میں یہ سنٹر 300 ایکڑ اراضی پر قائم ہے۔

ابتدائی طور پر اس نے فاٹا میں انتظامیہ کے قانون نافذ کرنے والے دستوں، لیویز اور خاصہ دار فورس کے 28 ہزار اہلکاروں کی تربیت کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی این ایل، جس نے دوسرے منصوبوں کو بھی مالی اعانت فراہم کی، نے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی سے نہ صرف حکومت اور فنڈ دینے والوں کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہوں گی بلکہ اس کی وجہ سے صوبے کو آئندہ ملنے والی مالی امداد بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

آئی این ایل (پاکستان) نے حکام کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی کانگریس کے ذریعے فنڈز کو کسی خاص مقصد کے لیے منظور کیا جاتا ہے اور اس سہولت کا مقصد اسی مقصد کے لیے ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق فنڈز یا سہولت کے استعمال کے طریقہ کار میں کسی بھی طرح کی خلاف ورزی نہ صرف شدید تشویش پیدا کردے گی بلکہ امریکی حکومت کے ذریعے تمام شعبوں میں مزید امداد روکنے کا باعث بنے گی۔

اس حوالے سے آئی این ایل کے عوامی امور کے سربراہ اسکاٹ رابنسن کی جانب سے ڈان اخبار کے نمائندے کی ای میل کا جواب نہیں دیا گیا۔ ضلع میں ترقیاتی کاموں سے متعلق ایک عہدیدار نے بتایا کہ ‘موجودہ صورتحال میں ہم صوبائی حکومت اور عدلیہ کے درمیان سینڈویچ بن رہے ہیں’۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے ٹریننگ سینٹر کے قبضے پر نگاہیں طے کی ہیں لیکن اس نے لیویز فورس کے منصوبے اور تربیت کے لیے بھرتی کیے گئے وزارتی عملے سمیت 35 کے قریب ملازمین کو نظرانداز کردیا ہے۔

لیویز ٹریننگ سینٹر کے ایک ملازم نے بتایا کہ ‘حکومت صرف جائیداد پر قبضہ کرنے میں دلچسپی لیتی ہے اور وہ ہمیں اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی’۔

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقہ شاکاس میں یہ سنٹر 300 ایکڑ اراضی پر قائم ہے۔ ابتدائی طور پر اس نے فاٹا میں انتظامیہ کے قانون نافذ کرنے والے دستوں، لیویز اور خاصہ دار فورس کے 28 ہزار اہلکاروں کی تربیت کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔