ضم اضلاع میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ضم شدہ قبائلی اضلاع میں اقتصادی ترقی اور تجا رتی سرگرمیوں کے حوالے سے یوایس ایڈ کے تعاون سے سمیڈا اور یواین ڈی پی کے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار ہوا.

سیمنار میں وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی غازی غزن جمال، جنرل منیجر سمیڈا جاویدخٹک، اکنامک گروتھ ایڈوائزر(یوایس ایڈ) مجاہدسلیم فاروقی، یواین ڈی پی کے مقامی نمائندی سمیت ضم شدہ و قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے صوبائی حکومت تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے خصوصی منصوبہ بندی کر رہی ہے جہاں 3g اور 4g کی فراہمی سمیت ناکارہ صنعتوں کی بحالی اورتجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائینگے۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی عبدالکریم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضم شدہ اضلاع معدنیات سے مالا مال ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ان کو مقامی لوگوں کے لیے جدید سائنسی بنیادوں پر استعمال میں لاکر ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے انہوں نے سرمایہ کاروں پرزوردیاک ہ وہ قبائلی اضلاع میں پانی،بجلی اورگیس کے ذخائر میں سرمایہ کاری کرکے اس سے بھرپورفائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے کہاکہ صنعتی پالیسی برائی2020-30کے تحت نہ صرف SEM سیکٹرکو اٹھایا جائے گا بلکہ نئی صنعتوں کے قیام کیلئے سرمایہ کاروں کومختلف شعبوں میں خاطرخواہ سہولیات میسرہو سکیں گی جس کی بدولت حکومت کے ان اقدامات سے روزگارکے نئے مواقع پیدا ہونگے.

انہوں نے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کے ذریعے سنٹرل ایشیا کے ساتھ تجارت کی بدولت ان علاقوں کی معاشی حالت بہتر ہوجائیگی اور ضم شدہ اضلاع میں صنعتی ترقی اور تجا رتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جلد اضلاع کی سطح پر سیمینار کا انعقاد کیا جائیگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں جنہوں نے ملک کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں پناہ لی تاہم وفاقی وصوبائی حکومتیں قبائلی عوام کی بحالی کیلئے جلدپروگرام شروع کریں گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع میں بین الاقوامی روٹ کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے جلد کھولنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان کی خواہش ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جائے۔