ملکی تاریخ میں نرسنگ طلباء کے لئے پہلی مرتبہ سکالرشپ پروگرام کا آغاز

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ملکی تاریخ میں نرسنگ طلباء کے لئے پہلی مرتبہ سکالرشپ پروگرام کا آغاز کر دیا گیا جس کے تحت  ایک ارب 24 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے چار سال میں ساڑھے چار ہزار طلباء کو نرسنگ کی تعلیم کیلئے سکالرشپس دی جائیں گی۔

اسلام آباد میں نیشنل اینڈوومنٹ سکالرسپ برائے ٹیلنٹ (نیسٹ)کے زیر اہتمام اس سکالرشپ پروگرام کے افتتاح کے موقع پر وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ یہ پروگرام چار سالہ نرسنگ ڈگری کرنے والے مستحق طلبا و طالبات کے لئے ہے جس میں رواں برس 31 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔

شفقت محمود نے کہا کہ آٹھ ماہ پہلے جب یہ پروگرام وزارت تعلیم میں آیا تو ہم نے سوچا کہ اس پرگرام کو کیسے آگے لے جایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پھر وزارت نے فیصلہ کیا کہ نیسٹ سکالرشپ ایسے شعبوں کی ترقی کیلئے استعمال کی جائے گی، جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا یا جنہیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سکالرشپ نہیں مل رہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نرسنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سکالرشپ کی کمی ہے، اور بہت سارے بچے اس شعبے میں آنا چاہتے لیکن مہنگی تعلیم ہونے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ یہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کی ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا ہے اور اگلے بیس مہینے میں ایک لاکھ ستر ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا۔ دنیا کے جدید ٹرینڈز کے مطابق نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے دس ارب روپے کی خطیر رقم سے ووکیشنل ٹریننگ کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

نیشنل اینڈوومنٹ سکالرشپ برائے ٹیلنٹ کی پروگرام منیجر حاجرہ سہیل نے تقریب سے خطاب میں بتایا کہ نرسنگ سکالرشپ کے تحت 886 سکالرشپس چار سالہ بیچلرز پروگرام ، 119 سکالرشپس ماسٹرز ان نرسنگ، اور 13 سکالر شپس پی ایچ ڈی کیلئے سالانہ دی جائیں گی۔ جن میں ہر سال دس فیصد اضافی سکالرشپ بھی فراہم کی جائیں گی۔

پاکستان نرسنگ کونسل کی رجسٹرار فوزیہ مشتاق نے اس موقع پر وفاقی حکومت اور نیسٹ کا شکریہ ادا کیا کہ اس شعبے کیلئے بھی مستحق اور قابل طلباء و طالبات کیلئے سکالرشپ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں ہر سال 5 ہزار نرسز تعلیم مکمل کر کے فیلڈ میں آتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 80 ہزار نرسنگ سٹاف موجود ہے، جبکہ عالمی معیار کو پورا کرنے کیلئے پاکستان میں نرسنگ سٹاف کی تعداد 8 لاکھ ہونی چائیے۔

سکالرشپ پروگرام کے تحت ملک بھر کے 52 اعلیٰ اسپتالوں اور نرسنگ کالجز کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں پسماندہ علاقوں کے رہنے والے، مستحق اور غریب طلباء کو سکالرشپ کیلئے منتخب کیا جائے گا۔