پشتون قومی جرگہ : وزیرستان سے باجوڑ تک تمام نقصانات کا ازالہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام پشتون رہنمائوں کا ”پشتون قومی جرگہ” منگل کے روز باچاخان مرکز پشاور میں منعقد ہوا جس میں مشترکہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان میں بیرونی مداخلت فوری طور پر روکی جائے، افغانستان میں امن پاکستان میں امن کی ضمانت ہے، افغانستان میں مذاکراتی عمل خوش آئند ہے۔

جرگہ کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آپریشنز کے باوجود دہشتگرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں، اس عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور تمام پرائیویٹ ملیشا نیٹ ورکس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، اس کے ساتھ ساتھ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بے گھر پشتونوں کی دوبارہ بحالی ریاست کی ذمہ داری ہے، تباہ مکانات کے معاوضے دیے جائیں، باجوڑ سے وزیرستان تک تمام تباہ کاریوں ، نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے۔

جرگہ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو جلد ازجلد عدالتوں میں پیش کیا جائے، لینڈ مائنز اور بارودی سرنگوں کی عدم صفائی پر جرگہ شرکاء کی جانب سے اظہار تشویش کیا گیا اور مطالبہ کیا کہ اس قسم کے واقعات سے فوری تحفظ فراہم کی جائے۔

ضم اضلاع بارے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ان علاقوں میں انتظامی،قانونی اور سیاسی اصلاحات و ترقی کیلئے 25ویں آئینی ترمیم کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے، این ایف سی ایوارڈ کا عدم اجراء غیر آئینی اقدام ہے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کو فوری طور پر جاری کیا جائے، بجلی کے خالص منافع کی تفصیل پیش کی جائے، اس ضمن میں مرکز کو واجب الادا رقم فوری طور پر ادا کی جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آبی وسائل پر صوبوں کا اختیار تسلیم کیا جائے، وفاق کے ذمہ واجب الادا رقم فوری طور پر ادا کی جائے۔

پشتون قومی جرگہ نے خیبرپختونخوا منرل ایکٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا مقامی وسائل پر مقامی افراد کا حق تسلیم کیا جائے۔

مردم شماری سے متعلق اعلامیے میں کہا گیا کہ 2017ء کی مردم شماری دھوکہ دہی پر مبنی تھی، پشتونخوا وطن میں دوبارہ مردم شماری کرائی جائے اور بلاک شناختی کارڈز کو فوری بحال کیا جائے۔

جرگہ شرکاء نے وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں نصاب تعلیم کے اقدام کو صریحاً آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اب صوبائی معاملہ ہے اور صوبائی معاملات میں مداخلت غیر آئینی اقدام ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کے مالی و انتظامی بحران پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ یونیورسٹیوں کے اندر سیکورٹائزیشن و جنسی ہراسگی کے مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں۔

پنجاب اور بلوچستان کے یونیورسٹیوں میں پشتون طلباء پر تشدد اور نسلی امتیاز اور میڈیا میں پشتونوں کی تذلیل اور توہین کی مذمت کی گئی۔

جرگہ نے مطالبہ کیا کہ مین سٹریم میڈیا میں پشتون ثقافت کو بھی پنجاب کے برابر جگہ اور وقت دیا جائے۔

پشتون سرزمین پر جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے ”ٹروتھ اینڈ ری کنسیلئیشن ” کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ خڑ کمر سمیت اس نوعیت کے سانحات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔

تجارتی راستوں بارے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستوں کو بحال کیا جائے اور نئے اضلاع کو شاہراہوں کے ذریعے ملایا جائے۔

سی پیک بارے مطالبہ کیا گیا کہ اس منصوبے میں بلوچوں اور پشتونوں کے حصے کا تعین ابھی تک نہیں کیا گیا، جے سی سی میں پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کو نمائندگی دی جائے، سی پیک کا مغربی روٹ مکمل پیکج کے ساتھ دیا جائے۔

جرگہ شرکاء نے ایکشن اِن ایڈ سول پاور آریننس کو بھی مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ بلوچستان کے ضلع شیرانی اور ضلع ہرنائی میں نشستوں کو بحال کیا جائے، کوئٹہ اور دیگر پشتون علاقوں میں حلقہ بندیوں کو درست کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی نجکاری بھی مسترد کی گئی اور پشتونخوا وطن میں صحت کی بہترین و لازمی سہولیات دینے کا مطالبہ کیا گیا۔