وادی تیراہ میں بچوں کے گمشدگی کا پہلا واقع

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع خیبر کے دور افتادہ علاقے وادی تیراہ میں گمشدہ دو کمسن بھائیوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قریبی رشتہ داروں نے انہیں جائیداد ہتھیانے کے لئے اغوا کیا ہے۔

بچوں کی بازیابی کے لئے انتظامیہ کی عدم تعاون کے خلاف علاقے کے چار اقوام مشتعل ہوگئے ہیں اور سینکڑوں لوگوں نے تجارتی مراکز بند کرکے انتظامیہ کے صدر دفتر کے سامنے دھرنا شروع کردیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ آفریدی قبیلے کے ذیلی شاخ برقمبر خیل کے علاقے نرخاو میں سات مارچ کو شفیق افریدی نامی باشندے کے پانچ اور سات سالہ بیٹے حسب معمول پڑھنے کے لئے گئے تھے لیکن واپس گھر نہیں لوٹیں۔

گمشدہ بچوں کے والد نے الزام لگایا ہے کہ بچوں کو ان کے چچازاد بھائیوں نے اغوا کیا ہے اور اگر ان کی بازیابی کے لئے بروقت اقدامات نہیں اٹھائے گئیں تو جائیداد ہتھیانے کے لئے ان کے قتل کا بھی خدشہ ہے۔

بچوں کی بازیابی کے لئے مقامی انتظامیہ کی کوششوں کے علاوہ باڑہ سے بھی ایس ایچ او اکبر کی سربراہی میں بھاری نفری تیراہ میدان پہنچ گئی ہیں لیکن مقامی لوگ پھر بھی ان کوششوں سے غیر مطمئین دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے دھمکی دی ہے اگر اس سلسلے میں حکومت نے آج شام تک سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے تو وہ لوگ خود ملزمان کے خلاف کاروائی پر مجبور ہونگیں۔

سماجی کارکن اورجرگہ پاکستان کے مقامی رہنماء ڈاکٹر نوروز نے ٹرائبل پریس کو بتایا کہ چار دن گزرجانے کے باوجود بھی بچوں کے بازیابی کے لئے مقامی انتظامیہ نے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا جس کے وجہ سے پوری وادی میں تمام تجارتی مراکز آج سے احتجاجا بند کردئیے گئے ہیں۔

اُنہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مزکرات ہوئے لیکن بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔ لاپتہ بچوں کے والد شفیق آفریدی نے بتایاکہ اُنکا سات سالہ بیٹا منصف اور پانچ سالہ آصف چار دن پہلے گھر کے قریب مدرسہ سکول سے لاپتہ ہوچکے ہیں۔

اُنہوں نے کہاکہ وہ پچھلے کئی دنوں سے اپنی بیمار والدہ کے ساتھ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تھا کہ اُن کو سہ پہر گھروالوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ان کے بچے گھر واپس نہیں آئے ہیں۔ ان کے بقول اُنہوں نے کہا کہ بیمار ما ں کو ہستپال میں چھوڑ کر رات دیر گئے گھر پہنچا اور بچوں کی تلاش شروع کیں لیکن تاحال اُن کا کوئی سراغ نہ ملاسکا۔

مقامی ذرائع کے مطابق دونوں لاپتہ بچے جس مدرسہ سکول میں پڑھتے تھے وہاں پر اُستاد اُن کے والد کا چچازاد ہے جس کو مقامی انتظامیہ نے گرفتارکرلیا ہے تاہم اب تک متاثر ہ خاندان کو بچوں کے بازیابی کے حوالے سے کسی قسم معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

تیراہ میں دوبچو ں کے گمشدگی کے واقعے پر ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ کے انجمن تاجران نے بھی تشویش کا اظہار کردیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ واقع کے شفاف تحقیقات ہونا چاہئے اور بچوں کے جلد بازیابی کے لئے مقامی انتظامیہ کو موثر اقدمات اُٹھانا چاہئے جبکہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروئی کرنا چاہئے۔

واقع کے حوالے سے مقامی انتظامیہ کے موقف جانے کے لئے بار ہا کوشش کے باوجود بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جبکہ بچوں کے گمشدگی کا وادی تیراہ میں یہ پہلا واقع ہے۔