وزیر اعظم عمران خان کا ضلع مہمند کا دورہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلی سمیت ضلع مہمند کا دورہ کیا. ضلع مہمند کے دورے میں احساس کفالت پروگرام کا افتاح کیا.  قبائلی علاقے مہمند میں احساس کفالت پروگرام کے اجرا کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے سب سے پہلے علاقے کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے 80 لاکھ کشمیری بھائی، بہن، بچے اور بزرگوں کو تقریباً 7 مہینوں سے بھارتی فوج نے گھروں میں بند کیا ہوا ہے، میں آج اپنے ان دلیر کشمیری مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پوری پاکستانی قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں اللہ آپ کو صبر کی ہمت دے اور اس ظلم سے کشمیریوں کو آزاد کرے۔

ساتھ ہی انہوں نے بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں دہلی میں پولیس کے ساتھ مل کر آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلمانوں پر ظلم کیا اور پوری دنیا نے دیکھا کہ پولیس نے کس طرح غریب مسلمانوں پر ظلم کیا، جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انتہا پسند آر ایس ایس کا نظریہ سب کے خلاف ہے، یہ عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے خلاف ہے لیکن یہ ظلم کا نظام اللہ ختم کرے گا۔ دوران خطاب ان کا کہنا تھا کہ جب قبائلی علاقے پختونخوا میں ضم ہوئے اور الیکشن ہوا تو کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ یہاں الیکشن ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہمیں موقع ملا ہے کہ آپ کے علاقے میں ترقی لائیں اور اوپر اٹھائیں اور یہ سیاسی تقریر نہیں بلکہ میرا دینی فرض ہے، پاکستان میں جہاں بھی ہمارے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں، چاہے بلوچستان، راجن پور و دیگر علاقے ہوں ہم نے سب سے پہلے انہیں اوپر اٹھانا ہے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج چین سب سے تیزی سے اوپر جارہا ہے، 30 سال پہلے کوئی ایسا تصور نہیں کرتا تھا لیکن ان 30 برسوں میں انہوں نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا اور ریاست کی آمدنی کو نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں جس قوم میں انسانیت اور عدل و انصاف ہوگا اللہ اس قوم کو اوپر اٹھا دے گا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان، جس پر اللہ کی نعمتوں کی بارش ہوئی ہے، اس کے علاوہ سونے سمیت مختلف معدنیات ہیں۔

مہمند کے علاقے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں بہترین قسم کا زیتون پیدا ہوتا ہے اور اس کے لیے ہم یہاں پہلے مرحلے میں زیتون کے باغات لگانے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم اپنے احساس کے پروگرام کو پورے قبائلی علاقوں میں لارہے ہیں اور کفالت کے پروگرام کے ذریعے سب سے غریب طبقے کو 2 ہزار روپے مہینہ دینے سے اس کا آغاز کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے تقریباً 2500 نوجوانوں نے اسکالر شپ کے لیے اپلائی کیا ہے اور ہم انہیں پہلے یہ اسکالرشپ دیں گے، اس کے علاوہ یہاں کے عوام کو مہمند ڈیم سے پینے کے لیے پانی بھی فراہم کریں گے۔

اپنے خطاب کے دوران افغانستان کے ساتھ سرحد کھولنے کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرے دل سے دعا نکل رہی ہے کہ اللہ افغانستان میں امن پیدا کر، 40 سال سے وہاں کے لوگوں پر عذاب آیا ہوا ہے، ایک جنگ ختم ہوتی ہے تو دوسری شروع ہوجاتی ہے، روسی گئے تو امریکی آگئے اور آپس میں جنگ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے ہمیں فائدہ ہوگا اور میری کوشش ہوگی کہ جاتے ساتھ ہی سرحد کھلے تاکہ لوگوں کو تجارت کا فائدہ ہو۔

ٹیکنالوجی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 3 اور 4 جی مہمند کے نوجوانوں کا حق ہے، آج کل موبائل کے ذریعے گھر بیٹھے تعلیم مل رہی ہے اور یہ مراد سعید کی ذمہ داری لگا رہا ہوں کہ وہ ان علاقوں میں 3 اور 4 جی سروس لائیں گے۔

بجلی اور گیس کے مسائل کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج کیوں ان دو چیزوں کا مسئلہ ہے، کیوں بجلی اور گیس مہنگی ہوتی ہے؟ یہ آپ لوگوں نے سمجھنا ہے۔

اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو پتہ چلا کہ گزشتہ حکومت نے بجلی بنانے والی کمپنیوں سے 20 سے 30 برسوں کے معاہدے کیے ہوئے ہیں اور یہ سب معاہدے ہماری حکومت سے پہلے کے ہیں، یہ معاہدے ایسے ہیں کہ جس قیمت پر بجلی بن رہی اس قیمت پر ہم لوگوں کو فروخت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ بہت مہنگی بن رہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بجلی جس قیمت پر بن رہی ہے وہ مہنگی ہے جو ہم وصول کر رہے ہیں وہ کم ہے اور اس کے درمیان کا فرق گردشی قرض بن جاتا ہے، جب ہماری حکومت آئی تو تاریخی گردشی قرضے تھے اور قرضوں کے بڑھنے کی وجہ سے ہمیں قیمتیں بڑھانی پڑیں کیونکہ ہمارے پاس قرض دینے کے لیے رقم نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جب قیمت بڑھاتے ہیں تو لوگوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے لیکن ہم نے نچلے طبقے کے لیے قیمت نہیں بڑھائی بلکہ جو پیسے والے زیادہ بجلی استعمال کرتے تھے ان کے لیے قیتموں میں اضافہ کیا تاہم اس سے یہ ہوا کہ جس قیمت پر ہم صنعتوں کو بجلی فراہم کررہے تھے اس سے صنعتیں بھارت اور بنگلہ دیش کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتی کیونکہ وہاں بجلی سستی ہے اور یہاں مہنگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب اگر ہم صنعتوں کو سبسڈی دیں تو خسارے میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مزید خسارہ بڑھا نہیں سکتے کیوں کہ ہم قرضوں کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

تاہم عمران خان کا کہنا تھا کہ اب میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم نے بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بھڑھانی کیونکہ لوگ مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتے، اس لیے اب میں نے فیصلہ کیا ہے ہم نے ہر چیز کرنی ہے اور کسی نہ کسی طرح قیمتوں کو کم کرنا ہے، بجلی بنانے والوں سے بات چیت کریں گے کہ قیمتیں کم کریں کیونکہ ہم نے یا تو ملک چلانا ہے یا آپ کو پیسہ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی جس وجہ سے مہنگی ہے اس کو کم کرنے کے لیے ہر قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، فضول خرچی اور جو بجلی ضائع ہورہی ہے اسے بند کریں کیونکہ اب ہم نے اپنے لوگوں اور صنعتوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالنے دینا۔

گیس کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے 15 سال کا گیس کا معاہدہ کیا اور جس قیمت پر یہ معاہدہ کیا ہے اس کے 30 فیصد پر دنیا میں گیس فروخت ہورہی ہے لیکن ہم معاہدے کی وجہ سے یہ نہیں خرید سکتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس لیے مہنگی ہیں کیونکہ ہمارے آنے سے پہلے کے معاہدے ہیں، گیس زیادہ مہنگی خریدی جارہی لیکن اب فیصلہ کیا ہے کہ چاہے جو بھی ہوجائے ہم نے گیس اور بجلی کی قیمت نہیں بڑھنے دینی بلکہ اسے کم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گردشی قرضوں کو کم کرنے کے لیے ہم نے بجلی کی قیمتیں بڑھائیں اور عوام پر بوجھ پڑا جبکہ ہم صنعتوں کو سستی بجلی فراہم نہیں کرسکے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھانی بلکہ کسی نہ کسی طریقے سے یہ کرنا ہے کہ بجلی کی قیمتیں کم ہوں، اس کے علاوہ ہر قسم کی فضول خرچی اور بجلی ضائع ہونے کو بند کریں گے اور اپنی صنعتوں اور لوگوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالنے دیں گے۔

اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ کبھی بھی کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کے حکمران کرپٹ ہوں، کوئی بھی ملک وسائل کی کمی کی وجہ سے غریب نہیں ہوتا بلکہ وہ تب غریب ہوتا ہے جب اس کے حکمران ملک کا پیسہ چوری کرکے باہر لے جائیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کبھی بھی اس جماعت کو ووٹ نہ دیں جس کے لیڈروں کے ملک سے باہر بڑے بڑے محلات ہوں کیونکہ آپ نے دیکھا ہے کہ سارا کا سارا خاندان باہر بیٹھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب انسان چوری نہیں کرتا تو اس کو لندن بھاگنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ نے سب کچھ دیا ہے، یہاں نعمتیں ہیں اور سب کچھ موجود ہے لیکن صرف ملک اس لیے آگے نہیں بڑھ سکا کہ یہاں جو لوگ بیٹھے تھے انہوں نے اس کا نظام کرپٹ کردیا۔

2019 کو سب سے مشکل وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انشا اللہ اب اچھا وقت آئے گا، مہنگائی پر ہم قابو پاچکے ہیں اور جن لوگوں نے ذخیرہ کرکے پیسہ بنایا ہے ان سب کو سزائیں دیں گے۔

قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و غربت مٹاؤ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ احساس کفالت پروگرام کے تحت انتہائی ضرورت مند افراد کو 2 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا اس پروگرام کا آغاز 4 اضلاع سے ہورہا ہے اور پورے صوبہ خیبرپختونخوا کا سروے مکمل ہونے کے بعد اسے پورے صوبے تک توسیع دے دی جائے گی۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ مہمند کی آبادی ساڑھے 4 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں سے صرف 17 ہزار افراد کو سماجی تحفظ کے پروگرام کے تحت وظیفہ دیا جاتا تھا لیکن یہ پہلی حکومت ہے جس نے اسے پورے صوبے میں پھیلانے کا عزم ظاہر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پردہ دار خواتین کے لیے حکومت پاکستان نے پہلی مرتبہ ایسا نظام وضع کیا ہے تا کہ با پردہ خواتین باعزت طریقے سے بینکوں کے اے ٹی ایم پر جا کر پیسے نکلوا سکیں۔