قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں تین روزہ پولیو مہم منسوخ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں تین روزہ پولیو مہم منسوخ کردی گئی، پولیو مہم کی منسوخی کی وجہ سے ایک لاکھ کے قریب بچے پولیو کے قطرے سے محروم ہوگئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ جنوبی وزیرستان کے ذرائع کے مطابق پیر 9مارچ سے ملک بھر کی طرح قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں شروع ہونے والے تین روزہ پولیو مہم کو قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں منسوخ کردیاگیا ہے۔

پولیو مہم کی منسوخی کی وجہ محسود قبائل کی جانب سے تباہ شدہ مکانات کے مالکان کو معاوضہ نے ملنے کے خلاف 43روز سے جاری دھرنا اور پولیو کے قطروں کی بائیکاٹ ہے۔

محسود قبائل نے پولیٹیکل کمپاؤنڈ جنوبی وزیرستان کے مین گیٹ کے قریب ایف سی گراؤنڈ میں پچھلے 43دنوں نے دھرنا شروع کیا ہے ۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دھرنا ختم کرنے میں ناکامی کے بعد تین روزہ پولیو مہم کو منسوخ کردیاگیا ہے ۔

ملک حیات خان محسود نے میڈیا کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ جنوبی وزیرستان محسود قبائل کے مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہے ۔اور ضلعی انتظامیہ میں موجود کرپٹ اہلکاروں معراج الدین اور دیگر کئی اہلکاروں نے تباہ شدہ مکانات کے مالکان کو معاوضہ دینے میں کرپشن کیا ہے ۔اور لوگوں نے رقم لیکر بڑے پیمانے پر خرد برد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تباہ شدہ مکانات کے سروے کو سیم پکچر اور سیم ہاؤس جیسے الزامات پر روک دئے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ تباہ شدہ مکانات کے سامنے سروے کے تصویر نکالنے کے بعد اس کا بیک ایک جیسا ہونے کی وجہ سے دس ہزار کے قریب تباہ شدہ مکانات کے مالکان کا معاوضہ روک دیا گیا ہے۔

انھوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل کے تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ روکنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیں۔

دوسری جانب زلی خیل قبیلہ کا آج بڑا جرگہ منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک حکومت زلی خیل اور دوتانی قبائیل کے مابین زمینی تنازعہ انگریز ریکارڈ کے مطابق کرانے کی جانب فوری اقدام نہیں اٹھاتی زلی خیل کے علاقے میں پولیو کے قطرے پلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب دوتانی قبائل نے بھی پولیو مہم اپنے علاقے اس لیے بند کردی کہ حکومت زمینی تنازعہ کو انگریز ریکارڈ کے مطابق حل کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

زلی خیل کے مشران نے آج جرگہ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ہم نے حکومت سے سوشل بائیکاٹ کیا ہے جو اس سوشل بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرے گا اسے پچاس لاکھ جرمانہ اور گھر بھی مسمار کیا جائے گا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آج پورے سب ڈویڑن وانا میں پولیو مہم نہ ہوسکی۔ جس کی وجہ سے تقریباً 80 ہزار سے زائد پانچ سال سے کم عمر کے بچے پولیو قطرے سے محروم ہوگئے۔

ضلعی انتظامیہ قبائل کو پولیو کے قطرے بچوں کو پلوانے میں اور زلی خیل قبائیل راضی کرانے میں ناکام ہوگئی۔

خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان کے ‘یو ماسید’ دھرنا شرکاء نے پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے، مظاہرین نے نہ صرف جنوبی وزیرستان بلکہ خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع اور کراچی میں بھی اس وقت تک پولیو مہم سے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جب تک کہ ان کے سروے اور موجودہ ڈپٹی کمشنر کے تبادلہ سے متعلق مطالبات پورے نہیں کئے جاتے۔

دوسری جانب آل بارگین ایسوسی ایشن شمالی وزیرستان کے عہدیداروں نے بھی نقصانات کے معاوضے نہ ملنے کیخلاف غلام خان کی اہم شاہراہ، وزیر اعلیٰ ہاؤس خیبر پختونخوا اور بنی گالہ میں دھرنا دینے کے ساتھ پولیو مہم سے بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔