خیبر پختونخوا میں ضم ضلع باجوڑ کے صدر مقام ‘خار’ کے رنگ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

دریائے ماندل اور دریائے ماموند کے وسط میں خشکی میں تاریخی کوہ مور پہاڑی کے دامن میں واقع صدیوں پرانا آباد فصیلی شہر خار باجوڑ جس کے صحیح تاریخ کسی کو پتہ نہیں ہے اب فصیلی یعنی دیواروں کا شہر نہیں رہا۔ اب یہ دیواروں سے نکل کر وسیع اراضی پر پھیلا ہوا شہر ہے۔

ضلع باجوڑ میں ایک دن کے گہرے بادل کے بعد آسمان صاف ہے اور دھوپ نکل کر اپنے کرنیں شہر کے چاروں طرف بکھیر رہا ہے۔ باجوڑ کے کونے کونے سے لوگ خار بازار کے طرف آ رہے ہیں جسمیں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔

خار بازار کے مین شہداء چوک سے چار سڑکیں منڈا۔ نواگئی۔سول کالونی اور پرانا بازار کو جاتی ہے۔سردیوں کا موسم ہے اور دوپہر کا وقت ہے۔ لوگوں گرم چادروں اور کوٹ میں ملبوس اپنے اپنے ضرورت کے اشیاء خریدنے میں مصروف ہے۔جسمیں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔ خار بازار میں ہر طرح کے کاروبار ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آئی ہے۔

باجوڑ خار نے اب بہت ترقی کی ہے اور اس میں نئے نئے مارکیٹیں بنے ہیں جبکہ کاروباری حضرات کے آ سانی کے لئے باجوڑ خار میں تمام بینکوں کے برانچ موجود ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے طرف سے سٹریٹ لائٹس اور نکاسی اآ ب کے لئے نالےاں بھی بنائی گئی ہے۔

ایک تنگ گلی سے میں شنگس مارکیٹ کو داخل ہو رہا تھا تو وہاں پر بہت رش دیکھنے کو ملا اس تنگ گلی میں دونوں طرف کاسمیٹیک اور ہوزری کے دوکانیں ہیں اور باجوڑ کے مشہور حاجی شامت نسوار جو نہ صرف باجوڑ میں مشہورہے بلکہ خلیجی ممالک اور حتی کہ یورپ کو بھی برآمد کئے جاتے ہیں۔ حاجی شامت اپنے دو بیٹوں اور ایک ملازم کے ساتھ نسوار بنانے میں مصروف ہے.

اس سے ہوتے ہوئے میں مارکیٹ میں داخل ہوا تو میرے نظر خچروں اور دیگر جانوروں کے زیبائش و آرائش اور ثقافتی اشیاء کے دو دوکانوں پر پڑی جس کا اب وہ رونق نہیں ہے۔ کیونکہ وہاں پر پہلے درجن سے زیادہ دوکانیں تھے لیکن اب صرف دو باقی رہ گئے ہیں۔

اس مارکیٹ میں پہلے اس کاروبار کے زیادہ دوکانوں اور یہاں سے گدھوں اور خچروں پر مال دوسروں علاقوں کومنتقل کیا جاتاتھا ۔ اس کا پرانا نام پھر تبیل ہوا اور اس کا نام شینگس مارکیٹ رکھا اور اب لوگ اس مارکیٹ کو شینگس مارکیٹ کہتے ہے جو باجوڑ میں ا یک پہاڑ کا نام ہے اور وہاں پر نواب آف خار اور دیر نواب کے درمیان ایک تاریخی جنگ ہوا تھا۔

اس مارکیٹ میں اب یہ دونوں دوکاندار اپنے کاروبار کے بقا کے جنگ لڑ رہے ہیں۔ پرانے شہر کے فصیل کے ساتھ ہی خلجی خاندان کے خلجی حجرہ ہوٹل ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زیادتر بزرگ لوگ چارپائی پرموجود ہے جو گرم گرم چائے کے ساتھ گروپ چٹ (گپ شپ) میں مصروف ہیں۔ اس جدید دور میں یہ خار بازار میں واحد اور سستی تفریح ہے بزرگ لوگوں کے لئے یہ ہوٹل صبح سے لیکر رات گئے تک کھلا رہتا ہے۔

خار بازار میں کوئی خاتون نظر نہیں آرہی اس کی ایک وجہ قبائلی روایت ہے لیکن ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کے ضرورت کے چیزیں اب خواتین کے ہی دوکانوں میں دستیاب ہو تے ہیں جو خواتین نے اپنے گھروں میں بنائے ہے۔ جسمیں میں کاسمیٹک کپڑوں کے نت نئے ڈیزئین و آرائش کے چیزیں شامل ہیں اور اس کا کاروبار خوب چلا رہا ہے۔ جس کی حوصلہ اٖفزائی اس کے مرد بھی کر رہے ہیں۔

خار بازار کے متصل سکولوں سے بچے چھٹی ہو گئے ہیں لیکن کچھ سڑک کے کنارے گھروں کو جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں انہوں نے اپنے منہ کو کپڑے سے بنے ہومختلف رنگوں کے ماسک لگا ئے ہیں جو وہ آلودگی سے بچنے کے لئے استعمال ہو تا ہے۔ اور اس وجہ سے اب یہ ایک اچھا کاروبار بن گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ زیاد ترہ بچے اس کے فروخت کے کاروبار سے بھی وابستہ ہو گئے ہے۔

بازار میں رکشہ اورنان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ہر طرف بھر مار ہیں اور کوئی مخصوص ٹریفک پلان اور قانون نہ ہونے کے وجہ سے کم عمر لڑکے بھی ڈرائیونگ کرتے ہوئے دنیا سے بے نیازموسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ خار بازار میں ان گاڑیوں کے چھوٹے بڑے بارگین ہیں۔

نان کسٹم پید گاڑیوں کے کئی ماڈلز ہیں جسمیں فیلڈر، ویڈز اور عواگئی شامل ہیں۔ لیکن اس میں غواگئی موٹرکاربہت مشہور ہوا ہے جو لوکل سواریوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ غواگئی موٹر کار کے نام کے پیچھے ایک الگ کہانی ہے کہ اس کو کیوں غواگئی موٹر کہا جاتا ہے لیکن اب شام ڈھل چکی ہے اسلئے غواگئی کا قصہ پھر کہی اب میں اسی غواگئی میں بیٹھ کر گھر کے طرف روانہ ہوتا ہوں۔