ضلع بونیر سے پہلا ڈیس ایبل کھلاڑی صوبائی ٹیم میں منتخب

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

بونیر کے تحصیل چغرزی گاؤں ٹانگوڑ کا رہائشی عطااللہ خیبرپختونخوا ڈیس ایبل کرکٹ ٹیم میں بحثیت ال راونڈر منتخب ہوگئے۔ عطااللہ کسی بھی کھیل میں ضلع بونیر سے پہلا ڈیس ایبل کھلاڑی ہے جس کا انتخاب صوبائی ٹیم میں ہوا ہے۔

عطااللہ کرکٹ کا بہترین کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ مچھلی کا شکاری اور چائے پکانے کا استاد بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میرا سلیکشن ہوجائے گا خدا مہربان ہوا تو سب کچھ منٹوں میں ہوگیا۔

عطااللہ نے اپنے سلیکشن کی کہانی کچھ یوں بتائی کہا میں لاہور کے ایک پارک میں پختون فلاحی تنظیم کے زیر اہتمام کرکٹ ٹورنامنٹ فائنل میں کھیل رہا تھا تو بیٹنگ اور باولنگ دونوں ایسا کیا کہ بیٹھے ہوئے لوگ متاثر ہوگئے تماشبینوں کی طرف سے مجھ پر انعامات کی بارش شروع ہوگئی۔

مہمانوں میں بیٹھے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے کہا کہ اگلے اتوار والے دن میں میڈیا کو بلا رہا ہوں آپ پر رپورٹ بنائی جائے گی اس کے اگلے اتوار نجی ٹی وی چینل نے مجھ پر رپورٹ بنائی اور یوں میری قسمت کا ستارہ چل پڑا۔

اس کے اگلے ہفتے میں گاؤں چلا گیا گاؤں میں بھی ٹی این این سمیت باقی میڈیا اداروں نے مجھے خوب کوریج دی اور اس ہفتے کو مجھے کسی نے بتایا کہ ٹرائل ہونے والے ہے میں چارسدہ گیا وہاں ٹرائل دیئے اس ہی دن کوچ اور ڈیس ایبل قومی ٹیم کے کیپٹن نے یقین دہانی دی کہ آپ کا سلیکشن ضررو ہوگا اور آج مجھے فون آیا کہ آپ کا سیلکشن ہوچکا ہے۔

عطااللہ کہتے ہیں کہ میں اپنی سلیکشن پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور جن دوستوں نے ساتھ دیا ان کا بھی مشکور ہوں۔

ستائس سالہ عطااللہ سات سال کی عمر میں ایک حادثے میں ایک ہاتھ سے محروم ہوا تھا مگر بیس سال معذوری میں ایسے گزارے کہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پلایا محنت مزدوری پر یقین رکھنے والے اس نوجوان نے چائے کے ہوٹل میں کام کرتے ہوئے اپنا گھر بسالیا شادی کی چار بچے ہیں آج بھی محنت پر یقین رکھتے ہیں۔

عطااللہ معاشرے کےلیے ایک زندہ مثال ہے، کہتے ہیں فیملی میں کسی نے بھی ان کو سپورٹ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ انکی سیلکشن ان کے لیے بڑی بات ہے فیملی میں کسی نے مجھے مبارک باد تک نہیں دی ہے جس پر مجھے بے حد افسوس ہے۔