خیبر پختونخوا: ہاؤسنگ سوسائیٹیاں اور پلازے زرعی زمین نگلنے لگے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

صوبہ خیبر پختونخوا کی زرعی زمینیں بہت تیزی سے ہاؤسنگ سکیموں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

آئے روز اخبار میں کسی نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیر ہو رہی ہوتی ہے اور پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق 10 میں سے ایک سکیم سرکاری ہوتی ہے۔

تقریباً دو کروڑ چھ لاکھ ایکڑ پر مشتمل خیبر پختونخوا رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب چھوٹا صوبہ ہے اور اس کی بڑھتی آبادی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے غیر قانونی و غیرمنظم ہاؤسنگ سکیمیں اور کمرشل پلازے زرعی زمین کا بڑا حصہ نگل رہے ہیں۔

محکمہ زراعت کے مطابق صوبے کی سات فیصد زمین مکانوں، سڑکوں اور دوسری عمارتوں پر مشتمل ہے، جبکہ 40 فیصد پر جنگلات ہیں۔

اسی طرح صوبے میں 45 لاکھ ایکڑ زرعی زمین ہے، جس میں سے 22 لاکھ ایکڑ بارانی اور 23 لاکھ ایکڑ زیر آبپاشی زمین ہے، یعنی قابل کاشت زمین صرف 45 لاکھ ایکڑ ہے جو کہ صوبے کی ساڑھے تین کروڑ کی آبادی کے لیے پہلے ہی کم ہے۔

بڑھتی آبادی اور تیزی سے ختم ہوتی زرعی زمین کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ یہ صوبہ کہیں خوراک کے لیے دوسرے صوبوں پر انحصار نہ کرنے لگے۔

وزیر اعظم عمران خان وقتاً فوقتاً زرعی زمین پر ہاؤسنگ سکیموں کی تعمیرات کے حوالے سے اقدامات اٹھانے پر زور دے چکے ہیں لیکن صوبے کی سیاسی لیڈرشپ کی جانب سے اس پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

البتہ اس سال جنوری میں خیبر پختونخوا حکومت نے ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کرنے کے لیے حکومت کا نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ (این او سی) لازمی قرار دے دیا ہے لیکن اس کے باوجود غیر قانونی کالونیوں، پلازوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی روک تھام نہیں ہو رہی۔

صوبائی وزیر برائے بلدیات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کرنے والی 118 کمپنیوں کو نوٹس بھجوائے گئے ہیں جبکہ 80 کے قریب مختلف پولیس سٹیشنوں کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں کہ وہ اپنی حدود میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔

پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی ایسے منصوبے کو منظور نہیں کرتے جس کے لیے زرعی زمین کا استعمال کیا جا رہا ہو۔ ان کے مطابق متعلقہ کمپنی کو لینڈ ریکارڈ دکھانے کے ساتھ ساتھ ایک لمبے طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے۔

منگل کو پشاور میں تین روزہ قومی کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت و لائیو سٹاک محب اللہ خان نے کہا کہ وہ ایسا قانون تیار کر رہے ہیں جس سے زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعمیرات کی روک تھام ہو سکے گی۔

تاہم جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے اس قانون کے حوالے سے تفصیلات پوچیھں تو معلوم ہوا کہ اس پر ابھی کام شروع ہو نہیں ہوا، حتیٰ کہ لینڈ ریکارڈ پر بھی کام شروع نہیں ہوا جس کا غیر رجسٹرڈ زمینوں کے خلاف ایکشن لینے سے پہلے معلوم کرنا ضروری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے مختص شدہ زمین زرعی ہے یا کمرشل۔

اس پر وزیر زراعت نے وضاحت دی کہ تقریر میں قانون سازی کی بات سے ان کا مطلب یہ تھا کہ وہ مستقبل میں ایسا کرنے جارہے ہیں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ زرعی زمین پر جاری تعمیرات کی وجہ سے قابل کاشت زمین میں کمی آ رہی ہے اور آبادی بھی بڑھتی جارہی ہے تو کیا وہ اس پر کوئی لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں؟ تو محب اللہ خان کا کہنا تھا: ’ہم نے ایگری کلچرل ایمرجنسی کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس میں ان تمام عوامل کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے این او سی کا لینا لازم قرار دے دیا ہے اور غیر قانونی سوسائٹیوں کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔

’ہم صرف ان زمینوں پر گھر بنانے کی اجازت دیں گے جو قابل کاشت نہیں لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ آبادی کس رفتار سے بڑھتی جا رہی ہے۔ 1998 کی مردم شماری میں صوبے کی آبادی ایک کروڑ کے اوپر تھی اور آج چار کروڑ کے قریب جا چکی ہے۔ اب یہ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کا کام ہے کہ وہ اس پر اقدامات کریں۔‘

وزیر زراعت کی گفتگو میں صیغہ ’مستقبل‘ پر زیادہ زور تھا جس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ کم از کم مزید تین سال منصوبہ بندی میں لگ سکتے ہیں اور حکومت کی مدت ختم ہو جانے پر یہ مسئلہ اگلی حکومت پر پڑ جائے گا۔