باجوڑ میں زیادہ آبادی والے علاقے میں لڑکیوں کے لئے کوئی سکول نہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع باجوڑ کے تحصیل خار کے گاؤں چینگازو کے رہائشی سماجی کارکن اسلام الدین نہ صرف اپنے بچیوں کے مستقبل کے لئے پریشان ہے بلکہ گاؤں کے دوسرے بچیوں کے مستقبل نے بھی ان کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

ان کے گاؤں چینگازو، چکداروں اور توت شاہ سمیت آس پاس کے 1500 سے زیادہ آبادی پر مشتمل ان کے علاقے میں بچیوں کے لئے کوئی گرلز سکول موجود نہیں ہے جبکہ اسلام الدین کے مطابق اس کے گاؤں میں مردوں کا شرح تعلیم 80فیصد ہے جبکہ خواتین کا 0 صفرفیصد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود ایم اے پولیٹکل سائنس اور ایم اے ایجوکیشن کے ڈگریاں حاصل کی ہے لیکن اس کے گاؤں اور مضافات میں لڑکیوں کا کوئی گرلز سکول موجودنہیں ہے جس نے اس کو بہت پریشان کیا ہے کہ نہ صرف اس کی بچیاں تعلیم کے زیور سے محر وم ہورہی ہے بلکہ گاؤں کے دیگر بچیوں کا بھی یہی مستقبل نظر آرہا ہے۔ کیونکہ بچیوں کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

تعلیمی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ اس جدید دور میں بھی اس علاقے کے لوگ روڈ کے بنیادی سہولت سے بھی محروم ہے۔ اور اب بھی ہسپتال اور بازار جانے کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات زندگی پوراکرنے کے لئے پیدل جانے پر مجبور ہے۔

اسلام الدین بتا تے ہیں کہ چینگازوں اور مضافات کو صدیق آباد پھاٹک تبلیغی مرکز سے ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ ہے جس کے درمیان میں ایک خوڑ (ندی) بہتا ہے جس پر مرد،خواتین اور بچے سب پیدل سفر کرتے ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو علاقے کے لوگ سیلابی پانی کے وجہ سے اپنے گھروں اور ندی کے اس پار محصور ہو تے ہیں۔ جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

چینگازرو کا رہائشی 55 سالہ رحمت سید جو محنت مزدوری کر تا تھا اور اسی سے اس مہنگائی کے دور میں اپنے خاندان کی کفالت کر تا تھا اپنے مشکل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 4چار ماہ پہلے وہ بیمار ہوا اور اس کے سر کا آپریشن ہواہے۔ آپریشن کے بعد وہ ہر بار معائنہ کے لئے ہسپتال آنے جانے کے لئے ٹیکسی بک کراتا تھا کیونکہ وہ شینکوٹ کا روڈ استعمال کر تا تھا جو اس کو پیدل راستے کے مقابلے میں 4کلو میٹر دور پڑتا تھا جبکہ پیدل راستہ ڈیڑھ کلو میٹر پڑتا ہے جو بہت نذدیک اور آسان ہے لیکن وہ بیماری کے وجہ سے پیدل سفر نہیں کر سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ بیماری کے وجہ سے محنت مزدور ی کے بھی قابل نہیں رہا اور گھر میں بھی دوسرا کوئی فرد نہیں جو گھر کے اخراجات کا بوجھ اٹھائے۔ نذدیک روڈ کے نہ ہونے کے وجہ سے اس کو زیادہ مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اور گاؤں میں جب بھی کوئی بیمار ہوتا ہے تو سب کا یہی حال ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے گاؤں اور مضافات کو صدیق آ باد پھاٹک تبلیغی مرکزسے یہ ڈیڑھ کلومیٹر روڈ اگربن جائے تو اس کے گاؤں اور مضافات کے لوگوں کے زیادہ تر مشکلات خود بخود حال ہو جائینگے۔

اسلام الدین نے مزید کہا کہ صدیق آباد پھاٹک تبلیغی مرکز سے چینگازو تک روڈ سے نہ صرف ان کے آمد ورفت کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو گا بلکہ یہ تحصیل ماموند اور سلارزوں کے لوگوں کے لئے ہسپتال اور خار کے لئے نذدیک بائی پاس بھی ہو گا جس سے وقت کے بچت کے ساتھ ساتھ حادثات کی روک تھام میں مدد بھی ملی گی۔ اسلام الدین کہتے ہیں کی ان کے علاقے میں اور بھی کئی مسائل ہیں لیکن ان تمام مشکلات میں سرفہرست گرلز سکول اور روڈ کا نہ ہونا ہے.

انہوں نے کہا کہ ان کے علاقے کے مشران نے اپنے منتخب نمائندوں کے سامنے رکھے ہیں اور ان کو بار بار یاد دہانی بھی کرائی ہے لیکن بد قسمتی سے ابھی تک اس پر کاعذی کاروائی کے علاوہ کوئی عملی کام شروع نہیں ہوا۔جس کا ان کو کئی سالو ں سے انتظار ہے۔