طورخم گیٹ پر ‘کورونا وائرس’ سے نمٹنے کے لیے میڈیکل ٹیم تعینات

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاک افغان سرحد طورخم پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے انتظامات کئے گئے ہیں، 13 ڈاکٹرز و طبی عملے پر مشتمل میڈیکل ٹیم تعینات جبکہ پچھلے تین ہفتوں کے دوران 143,958 افراد کی سکرینگ کی گئی ہے۔

قبائلی ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر خیبر محمود اسلم وزیر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق پڑوسی ممالک ایران و افغانستان سے کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد طورخم گیٹ پر ایک میڈیکل ٹیم تعینات کی گئی ہے جو تھرمل سکیننگ گنز کے ذریعے آنے والے لوگوں کی باقاعدہ سکیننگ کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کسی قسم کی ایمرجنسی کے لئے طورخم گیٹ پر ایک ایمبولینس بھی تیار کھڑی ہے، اس کے علاوہ پاک افغان دوستی ہسپتال طورخم، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل اور جمرود بھی ایمرجنسی سپاٹس ڈکلیئر کئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس یدیانوم غی بریسوس نے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ وہ نئے مہلک وائرس کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تیار رہے اور اگر یہ ممکنہ طور پر وبائی صورت اختیار کرتا ہے تو وہ اس سے نمٹنے کے لیے بھی مستعد رہے۔

جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کورونا وائرس سے ڈھائی ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کے باوجود اس کو وبائی مرض خیال نہیں کرتی ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ دنیا کے ممالک کو اس کے وبائی شکل اختیار کرنے کی صورت میں حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ ایران ، اٹلی اور جنوبی کوریا میں حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے کیسوں میں اچانک اضافہ گہری تشویش کا سبب ہے۔

خیبر انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طورخم گیٹ پر قرنطینہ کی سہولت بھی موجود ہے جہاں کوئی کیس آنے کی صورت میں مریض کو رکھا جا سکتا ہے، طورخم گیٹ پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ضلعی انتظامیہ خیبر ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ خیبر اور محکمہ صحت ایک دوسرے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں تاہم ابھی تک کوئی کرونا وائرس کیس سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ٹرائبل پریس کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طارق حیات نے بتایا کہ افغانستان میں کورونا وائرس کی موجودگی کی اطلاعات کے پیش نظر طورخم بارڈر پر قائم پاک افغان دوستی ہسپتال میں فیڈرل ہیلتھ منسٹری اور صوبائی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے کوارڈینیشن اور تعاؤن سے طورخم بارڈر پر ایک ماہ پہلے تمام تر انتظامات کر لئے گئے تھے۔

ڈاکٹر طارق حیات نے بتایا کہ افغانستان سے آنے والے افراد کی سکریننگ کے لئے تھرم مل گن کا استعمال کیا جاتا ہے اور موقع پر ہر شخص کا ٹمپریچر چیک کیا جاتا ہے اور افغانستان سے آنے والے افراد کے چودہ دنوں کے سفر کا پورا ڈیٹا حاصل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کہاں کہاں سفر کیا ہے اور کہاں سے ہو کر آیا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ضلع خیبر نے کہا کہ طورخم بارڈر پر, لنڈی کوتل اور جمرود کے ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز قائم کر دئے گئے ہیں جہاں مکمل انتظامات کر لئے گئے ہیں تاکہ کہیں کورونا وائرس افغانستان سے پاکستان کا سفر نہ کر سکے۔

ڈاکٹر طارق حیات خان نے کہا کہ فیڈرل ہیلتھ منسٹری پورے ملک میں ائیر پورٹس اور سرحدات پر ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہونے والے کمیونیکیبل بیماریوں کی روک تھام کے لئے اقدامات کرتی ہے، طورخم میں فیڈرل ہیلتھ منسٹری اور صوبائی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ اس حوالے سے تعاون کرتے ہوئے تمام تر سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمرود, طورخم اور لنڈی کوتل کے ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز کے علاوہ ایمبولینس گاڑیاں تیار کھڑی کر دی گئی ہیں جہاں موقع پر کورونا وائرس کا چیک اپ کیا جاتا ہے اور جن افراد پر شک ہو جائے ان کو ایمبولینس گاڑی میں بٹھا کر سیدھا پشاور پولیس اینڈ سروسز ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے جو کہ خاص طور پر اس کورونا وائرس کے لیا تیار کیا گیا ہے۔

ضلعی صحت افسر کے مطابق طورخم بارڈر پر ایسے تمام افراد کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے اور باقاعدہ تھرمل گن سے افغانستان سے آنے والے ہر شخص کی سکریننگ اور بخار اور ساتھ ان کے سفری ریکارڈ کو بھی چیک کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ چین اور دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 27 سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 81 ہزار سے زائد ہو گئی ہے, آج برازیل سے بھی ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ پیر کو افغانستان کے ایران سے متصل صوبہ ہرات میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد سے وہاں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

افغانستان کے صوبے ہیرات کی سرحد ایران سے ملتی ہے اور ایران میں کورونا وائرس سے 50 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ وائرس کے پیشِ نظر پاکستان اور ترکی نے بھی ایران کے ساتھ سرحدیں بند کردی ہیں۔

یہی نہیں بلکہ گزشتہ روز کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر وزیر ریلوے شیخ رشید نے کوئٹہ تفتان ریلوے ٹریفک بند کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ کوئٹہ اور تفتان کے درمیان ہر ماہ 4 ٹرینیں چلتی تھیں، چاروں پاکستان واپس آ چکی ہیں، تاحکم ثانی چاروں ٹرینیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سرحد کی بندش تک ٹرینیں سروس بھی معطل رہے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے) کی بیجنگ کے لیے پروازوں پر 15 مارچ تک پابندی لگا دی گئی۔

دوسری جانب تفتان میں امیگریشن گیٹ چوتھے روز بھی بند ہیں جس سے لوگوں اورگاڑیوں کی آمد ورفت معطل ہے جبکہ سرحد کے دونوں اطراف زائرین بڑی تعداد میں پھنسے ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر ایرانی سرحد سے منسک بلوچستان کے 5 اضلاع میں ایمر جنسی بھی نافذ کردی گئی ہے۔

پاکستان کے ہمسایہ ممالک ایران، افغانستان اور بھارت میں کورونا وائرس کے کیس رپورٹ ہونے کے بعد ایرانی سرحد کے ساتھ بلوچستان کے 5 اضلاع چاغی، کیچ، گوادر تفتان وغیرہ میں ایمر جنسی نافذ ہے اور ایرانی سرحد تاحال سیل ہے۔