افغانستان – پاکستان کے درمیان ’گیتا‘ ٹرین سروس 9 سال بعد بحال

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے 1965 میں ہونے والے تجارتی معاہدے کے تحت چلائی جانے والی ’گیتا‘ ٹرین نو سال بعد دوبارہ بحال ہو گئی ہے.

تجارتی ریل سروس کی پہلی کارگو ریل پیر کی شب ازاخیل ڈرائی پورٹ پہنچ گئی، جہاں تمام ضابطے پورے کرنے کے بعد کسٹم حکام اس کےسامان کو ٹرکوں پر لادنے کی اجازت دیں گے۔

کراچی بندرگاہ سے براستہ چمن اور ازاخیل افغانستان تک مال پہنچانے کے اس منصوبے کو اس سال ریلویز کی بہت بڑی اقتصادی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق نہ صرف اس محکمے کی اقتصادی پیداوار میں بہتری آئے گی بلکہ سڑکوں پر رش میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ سامان کی بحفاظت منتقلی بھی ہوگی۔

ٹرانزٹ ٹرین کی دوبارہ بحالی ایسے حالات میں ممکن ہوئی ہے جہاں ایک طرف پاکستان افغانستان کے درمیان سرحدوں پر باڑ لگا کر سمگلنگ اور دوسرے جرائم کی روک تھام کی کوششیں ہو رہی ہیں تو دوسری جانب ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنا کر اس سے آمدن پیداکرنے کا ارادہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

جس کے نتیجے میں رواں مہینے کی 22 تاریخ کو ٹرانزٹ ٹرین جس کو عرف عام میں گیتا (گڈز ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان) کہا جاتا ہے، کو دوبارہ چلانے کا افتتاح کیا گیا۔

محکمہ ریلوے پشاور دفتر کے ڈویژن ٹرانسپورٹ آفیسر طاہر مروت نے ٹرائبل پریس کو بتایا کہ فی الحال یہ ٹرین کراچی سے چمن اور ازاخیل تک ہی جائے گی لیکن مستقبل میں اس ٹریک کو ازاخیل سے جلال آباد اور چمن سے سپین بولدک تک پھیلانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ گیتا ٹرین کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق: ’اس سے پہلے سارا فائدہ ٹرک مالکان اور کمپنیوں کو ہوتا تھا لیکن اب وہ پیسہ پاکستان ریلویز کے اکاؤنٹ میں جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ گیتا ٹرین چلانے کا معاہدہ 1965 میں ہوا تھا لیکن بیچ میں یہ مختلف مسائل کا شکار رہا اور بلآخر 2011 میں اس کارگو ٹرین کو بند کر دیا گیا۔