مالی، انتظامی اور اخلاقی بحران سے دوچار گومل یونیورسٹی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

گومل یونیورسٹی میں پیش آنے والے آج کے واقعہ میں یہ تو ثابت ہوگیا کہ یہ مادر علمی، درسگاہ فقط مالی اور انتظامی بحران کا ہی شکار نہیں بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی تنزلی سے دوچار ہے۔ یونیورسٹی میں سب سے بڑا عہدہ رکھنے والا شخص طالبات کو ہراساں کرنے جیسے گھناؤنے فعل کا مرتکب نکلا۔ پروفیسر صلاح الدین کی گرفتاری سے اس امر کو تقویت ملی ہے کہ جو طلباء یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف سڑکوں پہ احتجاج کر رہے ہیں، ان کا موقف حقیقت سے قریب تر بھی ہے اور ان کے مطالبات جائز اور درست ہیں۔ طلباء کافی عرصہ سے احتجاج کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ خائن اور بدکردار ہے اور جو بھی ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اس کے تعلیمی کیرئیر کو داغ دار کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے اور نجی ٹی وی چینل کی ٹیم نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پروفیسر صلاح الدین کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔

پروفیسر صلاح الدین کی 35 سال کی سروس ہے اور یہ ملزم ڈین آف آرٹس تھے اور یونیورسٹی کا سب سے بڑا عہدہ ان کے پاس تھا۔ اسلامیات اور عریبک ڈیپارٹمنٹ بھی انہی کی نگرانی میں تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین پر متعدد طالبات نے الزام لگایا تھا کہ وہ امتحانی پرچوں میں نمبر بڑھانے کیلیے نجی فارم ہاوس پر بلاتے اور جنسی طور پر ہراساں کرتے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ ایک عرصہ سے اس کیس کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، جس کے بعد کچھ متاثرہ طالبات نے ثبوتوں کے ساتھ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو درخواستیں دے دیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد ان کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا، جس پر آج عملدرامد کیا گیا۔ نجی ٹی وی چینل کی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں کے منظر عام پہ آنے کے بعد وائس چانسلر نے فوری طور پر پروفیسر صلاح الدین سے استعفٰی لے لیا، جبکہ ایف آئی اے نے انہیں اپنی تحویل میں لیکر نامعلوم مقام پہ منتقل کر دیا ہے۔

دوسری جانب طالبات کی جانب سے درخواست ملنے کے باوجود کارروائی نہ کرنے، بدانتظامی اور یونیورسٹی اہلکاروں کے جرائم سے چشم پوشی اور طلباء کے مسائل کو نان ایشوز قرار دینے کے باعث رجسٹرار دلنواز کو معطل کرکے یونیورسٹی میں ان کے داخلے پہ تین ماہ کی پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ سارا معاملہ اس وقت پیش آیا ہے کہ جب گذشتہ تین ہفتوں سے طلباء سڑکوں پہ یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے سب اچھا ہے، سب اچھا ہے، کی گردان جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی اور وفاقی حکومت کیلئے یہ امر باعث تشویش ہونا چاہیئے کہ نوجوان طلباء ان سے متنفر ہو رہے ہیں، کیونکہ ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات اس وقت شدید مالی، انتظامی اور اخلاقی بحران سے دوچار ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں کمی کے باعث کئی جامعات نجی شعبے (بینک و دیگر) سے قرضے لینے پہ مجبور ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ یہیں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جس یونیورسٹی کا سب سے بڑا عہدہ رکھنے والا پروفیسر غلیظ سرگرمیوں میں ملوث نکلا، اسی یونیورسٹی کی انتظامیہ تین روز قبل ہی یونیورسٹی کو بند رکھنے کا اعلان کرچکی تھی جبکہ طلباء سے زبردستی ہاسٹلز خالی کروا کر انہیں گھروں کو واپس جانے کی تاکید کی گئی اور وجہ یہ بیان کی گئی کہ ہاسٹلز میں رنگ و روغن اور مرمت کا کام کرانا ہے۔ ایک ہفتہ قبل گومل یونیورسٹی کے طلباء نے فیسوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف انڈس ہائی وے پہ دھرنا دیا۔ کئی گھنٹے جاری رہنے والے دھرنے کو ختم کرانے کیلئے پولیس نے طلباء پہ لاٹھی چارج کیا۔ لاٹھی چارج کے دوران بعض طالب علم زخمی ہوئے اور بعض طالب علموں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ دو درجن سے زائد طلباء پہ مقدمات درج کر لیے گئے۔ گومل یونیورسٹی انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مارچ کے پہلے ہفتے تک یونیورسٹی کو مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔

گومل یونیورسٹی کے مالی بحران کے نتیجے میں پید اہونے والے مسائل پہ بات کرتے ہوئے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے پروفیسر صادق کمال کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو اس وقت دو ارب 84 کروڑ روپے سالانہ تنخواہوں کی مد میں جبکہ پنشن کی رقم ملا کر سالانہ تین ارب 32 کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی خسارے کے باوجود وائس چانسلر اور ان کے انتظامی معاونین نے 195 ملازمین کو بھرتی کیا ہے۔ اس سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا کے حکم پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ گومل یونیورسٹی بحران پہ بات کرتے ہوئے متحدہ طلباء محاذ کے رکن اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعجاز الحق سرانی نے کہا کہ تعلیمی سیشن کا آغاز تو ہوچکا تھا، مگر انتظامیہ کی جانب سے ہاسٹلز کی فیسوں میں اضافہ کیا گیا جبکہ فارمیسی کی فیسوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا۔ ایچ ای سی کے قوانین کے مطابق اگر اضافہ ناگزیر ہو تو بھی دس فیصد اضافہ کیا جاتا ہے، مگر یونیورسٹیز انتظامیہ نے خلاف قوانین دس فیصد سے زیادہ اضافہ کیا۔

ہاسٹل کی فیس جوکہ 26 ہزار تھی، اسے 36 ہزار کر دیا گیا جبکہ فارمیسی کی فیس 128000 تھی، جسے بڑھا کر 165000 تک کر دیا گیا۔ جس کے خلاف طلباء نے احتجاج کیا، اس احتجاج کے نتیجے میں یونیورسٹیز انتظامیہ نے طالب علموں کو یقین دہانی کرائی کہ ہم آپ کے یہ مسائل حل کر دیں گے، مگر یہ مسائل حل نہیں ہوئے۔ دسمبر میں یہی معاملہ دوبارہ پیش آیا تو یونیورسٹیز انتظامیہ ان یقین دہانیوں سے مکر گئی، نتیجے میں طلباء کے احتجاج میں شدت آئی۔ اس احتجاج کو ختم کرنے کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ نے کئی طالب علموں کو فیل کیا جبکہ ضلعی انتظامیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے کہنے پہ طلباء پہ مقدمات قائم کر دیئے۔ ان مقدمات کے خلاف ہونے والے احتجاج پہ پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ فیسوں میں اضافے کے خلاف طلباء نے تقریباً 18کلومیٹر پیدل مارچ بھی کیا تھا اور یونیورسٹی سے جی پی او موڑ تک پیدل آئے تھے، مگر مجال کہ اس پیدل پرامن احتجاجی مارچ کا یونیورسٹی یا ضلعی انتظامیہ نے کوئی اثر لیا۔

23 طالب علموں کو یونیورسٹی انتظامیہ نے معطل کر دیا ہے۔ ہاسٹلز زبردستی خالی کروا لیئے ہیں۔ پیپرز آنے والے ہیں، طالب علم بہت پریشان ہیں۔ اسی معاملے پہ بات کرتے ہوئے گومل یونیورسٹی میں امامیہ اسٹوڈنٹس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک مطالبہ فیسوں میں ہونے والے اضافے کو واپس لینے کا تھا۔ دوسرا مطالبہ ہمارا کوٹہ سسٹم پہ عملدرآمد کا تھا۔ جس طرح ملک کے دیگر صوبوں کی جامعات میں کوٹہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں سندھ، خیبر پختونخوا یا دیگر علاقوں سے اتنے طالب علم آسکتے ہیں، گومل یونیورسٹی میں بھی اسی سسٹم پہ عمل کیا جائے، کیونکہ ہو یہ رہا ہے کہ دیگر صوبوں و شہروں سے آنے والے طالب علموں کا یونیورسٹی خیرمقدم کر رہی ہے، مگر اپنے شہر اور علاقے کے نوجوانوں کو ہر حوالے سے یہاں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے کس ملک میں جامعات کی فیسز میں سو فیصد اضافہ کیا جاتا ہے۔؟ ہمارے اصولی مطالبات اور موقف کو چھپانے کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ نے سمسٹر کے دوران ہی یونیورسٹی بند کرکے طالب علموں کا قیمتی مستقبل داؤ پہ لگا دیا۔ اگر ہمارے اصولی مطالبات کو اسی طرح نظرانداز کیا گیا تو ہم احتجاج کا دائرہ پشاور اور اسلام آباد تک لے جائیں گے۔

گومل یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں اضافے، طلباء کے داخلوں کی معطلی، خلاف معمول یونیورسٹی بند رکھنے کے اعلان کے معاملے پہ جب یونیورسٹی حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ وائس چانسلر اور انتظامیہ نے طلباء کے تمام مطالبات کو تسلیم کیا تھا، جن میں سے ایک بڑا مطالبہ فیسوں میں کمی کا تھا۔ طلباء کسی مسئلہ پہ نہیں بلکہ وائس چانسلر کو ذاتی عناد کی بنیاد پہ نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے تمام مسائل حل ہوچکے ہیں۔ طلباء تنظیموں نے اپنی پریس کانفرنس میں جن مسائل پہ بات کی، وہ نان ایشوز ہیں۔ مالی بحران کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، مگر ہم اس کی بروقت ادائیگی کو ممکن بنا رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں میگا پراجیکٹس بھی جاری ہیں۔ گومل فیکلٹی آف انجنیئرنگ کی نئی بلڈنگ، انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کی نئی بلڈنگ کی تعمیر ہوچکی ہے اور جلد ہی ان میں کلاسوں کا اجرائ ہو جائے گا۔

وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کا پاکستان آرمی سے جمنازیم بنوانا، سپورٹس کمپلیکس لیکر آنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ گومل یونیورسٹی کے اخراجات سے چڑیا گھر بنوانا۔ سیکرٹری جنگلات سے ہزاروں کنال پر مختلف فروٹوں کے باغات لگوانا، زیتون جیسے قیمتی پودے کی شجرکاری سمیت دیگر اہم اقدامات سب ریکارڈ اور تاریخ کا حصہ ہیں۔ شعبہ سرائیکی کی منظوری بھی موجودہ وائس چانسلر کے دور میں دی گئی اور جلد ہی قانون و ضوابطہ پورے ہونے کے بعد اس کی کلاسوں کا اجرا ہو جائے گا۔ مالی، اخلاقی اور جنسی ہراسانی سمیت گھناؤنے کیسز میں ملوث اور غلط طریقوں سے بھرتی کئے گئے ملازمین کو نوکریوں سے برخواست کیا گیا تھا۔ (حیران کن بات یہ ہے کہ یہ موقف ایسی انتظامیہ کا ہے کہ جن کا سب سے بڑا عہدیدار خود رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے) یونیورسٹی کے وہی سابق ملازمین و اہلکار طلباء کو احتجاج پہ اکسا رہے ہیں۔ طلباء کی پریس کانفرنسز اور احتجاج میں تقسیم ہونے والے پمفلٹ اور ان سابق ملازمین کی کانفرنس میں تقسیم ہونے والے پمفلٹس میں مماثلت ہے۔

ضلعی انتظامیہ ان تمام امور سے واقف ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے ان طلباء کے احتجاجی مظاہروں میں ان سے نرمی نہیں برتی۔ (یعنی ضلعی انتظامیہ بھی اتنی قابل ہے کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کو ہی حرف آخر سمجھتی ہے) یہ طلباء انہی لوگوں کے کہنے پر گومل یونیورسٹی کے پرامن تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی انکوائریاں گورنر انسپکشن ٹیم سے لیکر صوبائی حکومت انسپکشن ٹیم اور پھر نیب، چیف جسٹس سپریم کورٹ تک ہوچکی ہیں اور تمام انکوائریوں نے یونیورسٹی میں تمام معاملات کو صحیح قرار دیا ہے۔ گومل یونیورسٹی کے خلاف جو بھی سازشوں میں مصروف ہے، وہ بے نقاب ہوگا اور قانون سے بچ بھی نہیں پائے گا۔ (یہ الگ بات ہے کہ بے نقاب پروفیسر صلاح الدین کی صورت میں اسی مافیا کا اپنا ہی کارندہ ہوگیا)

گومل یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء کا موقف اپنی جگہ، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ دور حکومت میں ملک کی سرکاری جامعات بالخصوص صوبہ سرحد کی جامعات شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں۔ مالی اور انتظامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اخلاقی گراوٹ کا ایک ثبوت تو میڈیا میں مسلسل زیر بحث ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پشاور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے لگ بھگ 60 کروڑ روپے قرضہ لیا، جبکہ پشاور کی زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں 48 کروڑ روپے اقساط میں ادا کر رہی ہے۔ اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا بنوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان کی جامعات کو بھی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے بھی صوبے کی جامعات کو درپیش مالی بحران کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے اس مالی بحران کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ مسائل کی اصل وجہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی امداد میں 40 فی صد سے زیادہ کٹوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ بہت جلد صوبائی حکومت ان مسائل پہ قابو پا لے گی۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور انتظامی عہدے دار ان اداروں کو درپیش مالی مشکلات کے علاوہ گذشتہ کئی برس سے مستقل وائس چانسلرز کی تعنیاتی کے سلسلے میں بھی شکایات کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کی 30 سرکاری جامعات میں سے لگ بھگ 13 جامعات کے وائس چانسلرز کی آسامیاں خالی ہیں، جن پر ابھی تک کسی شخص کو تعینات نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں کمی کے باعث سرکاری جامعات کو درپیش مالی بحران پہ شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 104 جامعات اپنی تاریخ کے بدترین مالی بحران کا سامنا کر رہی ہیں اور کٹھ پتلی حکومت ایک کھرب 58 ارب روپے کے درکار بجٹ میں سے نصف بھی مختص کرنے کو تیار نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پشاور یونیورسٹی سمیت ملک کی چند نمایاں جامعات اپنے عملے کو تنخواہیں تک ادا نہیں کر پا رہیں، جبکہ تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کو بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔