رضیہ محسود قبائلی خواتین کی آواز کیسے بنی؟

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ٹرائبل نیوز نیٹ ورک کی رپورٹر رضیہ محسود حقوق سے محروم قبائلی عوام کی آواز بن گئی ہے۔ قبائلی اضلاع جہاں پہلے خواتین کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں اب ٹی این این کے توسط سے خواتین بھی صحافت کے میدان میں آگئی ہے۔ رضیہ محسود کے کام کو عالمی میڈیا میں بھی پذیرائی مل رہی ہے، حال ہی میں بی بی سی اردو نے انکا انٹرویو کیا ہے۔

رضیہ محسود نے ڈیڑھ سال قبل ٹی این این کی جانب سے سٹیزن جرنلسٹ کے لئے منعقدہ پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ میں حصہ لیا جس کے بعد وہ وقتا فوقتا مختلف موضوعات پررپورٹنگ کرکے ٹی این این کے ہی پلیٹ فارم سے اپنے علاقے کے مسائل کو اچھے طریقے سے اجاگر کررہی ہے۔

رضیہ محسود مختلف موضوعات پر کام کررہی ہے، جس میں عورتوں کی تعلیم، علاقے کی ثقافت اور رسم و رواج اور صحت شامل ہے۔ ان شعبوں کے علاوہ رضیہ محسود نے کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کی بیوی کا بھی انٹرویو کیا، یہ انٹرویو ٹی این این کے پیج سے نشر ہونے کے بعد باقی میڈیائی اداروں نے بھی رضیہ محسود سے رابطہ کیا اور انکی سٹوری کو اپنے ویب سائٹس پہ اپ لوڈ کیا۔

رضیہ محسود کے کام کو نہ صرف ملکی اداروں کی جانب سے سراہا گیا بلکہ بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بھی اسے حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پر اسکی سٹوری ہے۔ بی بی سی اردو نے رضیہ محسود سے انٹرویو کرکے یہ بات جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ کیوں اس میدان میں آئی اور اس میدان میں وہ کن مشکلات سے گزری یا گزر رہی ہے کیونکہ قبائلی اضلاع میں صحافی کے حیث پرخواتین کے لئے کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو کے دوران رضیہ محسود جوکہ جنوبی وزیرستان میں پہلی خاتون سٹیزن جرنلسٹ ہے کا کہنا تھا کہ انہوں نے صحافت کا آغاز اپنے علاقے کے مسائل کو منظرعام پرلانے کے لئے کیا۔

رضیہ محسود کے مطابق شروع شروع میں انہیں بااثر افراد کی جانب سے دھمکیاں بھی دی گئیں تاہم خطرے کے باوجود انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔ انہوں نے کہا شروع میں انہیں بہت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ انہیں اپنی ساس کی جانب سے بھی اجازت نہیں مل پارہی تھی لیکن انکے خاوند نے انکا ساتھ دیا اور یہی وجہ ہے کہ آج انکے ساس سمیت علاقے کے دیگرلوگ بھی انکے کام کو سراہتے ہیں۔