قبائیلیوں کے نقصانات کا ازالہ نہ ہوا تو تحریک شروع کر دیں گے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

الحاج کاروان کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل آفریدی نے تحریک انصاف کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے فاٹا انضمام کے ثمرات قبائلی اضلاع کو منتقل نہ ہو سکے، حکومت قبائلی عوام کو بنیادی حقوق دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، نالائق وزراء کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ اور ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کردیا گیا ہے۔

جمرود پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے الحاج شاہ جی گل نے کہا کہ الیکشن میں پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں اور عوام کو سہولیات گھر کی دہلیز پر مہیا کرنا پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ تھا لیکن موجودہ حکومت عوام کو گھر اور نوکریاں دینے کے بجائے لے رہی ہے، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ابھی تک ایک کمرہ نہیں بنایا ہے، وہ کیسے ملک چلارہے ہیں۔

سابق رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ملک میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں کم کرنے کی بجائے مہنگائی میں اضافہ کردیا گیا ہے، غریب عوام کو دو وقت کی روٹی سے محروم کیا جا رہا ہے، ملک میں روز بروز مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام خودکشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں، ریاست مدینہ کے نام پر ان کا خون چوسا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نوجوانوں کو مایوس کردیا اور ان کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ہے، جن قوتوں نے عمران خان کو منتخب کیا تھا وہ بھی عمران خان اور اس کی ٹیم سے مایوس ہو چکی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے مذھبی امور علامہ نورالحق قادری کے بارے میں سوال پر الحاج شاہ جی گل نے کہا کہ وہ عوام کے ووٹ پر نہیں بنے، وہ ایلیکٹڈ نہیں بلکہ سلیکٹیڈ ہیں، وہ ضلع خیبر میں رہتے نہیں اس لیے ان کے ساتھ عوام کا کوئی غم نہیں، نورالحق قادری اپنے حلقے کے عوام کو بے یارومدوگار چھوڑ کر خود اسلام آباد کی روشنیوں میں گم ہوگئے، وفاقی وزیر کا عہدہ ہونے کے باوجود قبائلی اضلاع اور باالخصوص حلقہ این اے 43 کیلئے دو سال میں آٹے میں نمک کے برابر کام بھی نہیں کیا، این اے 43 ضلع خیبر میں ہمارے ترقیاتی کام اپنے کھاتے میں ڈال کر اپنی ناکامی چھپا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری جدوجہد کی وجہ سے افغان بارڈر پر اب چوبیس گھنٹے تجارت ہوتی ہے، ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روٹس کے باعث پاکستان کو کروڑوں روپے منافع ہو رہا ہے، افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ممالک کے رسم و رواج ایک ہیں، افغانستان میں امن پاکستان کا امن ہے۔

الحاج کاروان کے سربراہ نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی الیکشن 2018 میں عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے ایفاء کرے، سو ارب روپے جلد ازجلد ریلیز کئے جائیں تاکہ قبائلی عوام کی محرومیاں ختم کی جا سکیں۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے قبائیلیوں کو سو ارب روپے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ان کے نقصانات کا ازالہ نہ کیا تو تحریک شروع کر دیں گے۔