فوجی آپریشنز سے تباہ شدہ مکانات کیلئے خصوصی پیکیج کا مطالبہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں قیام امن کے بعد اپنے علاقوں کورضاکارانہ طور واپس جانے والے تمام قبیلوں کے تباہ شدہ مکانات کے متاثرہ مالکان کو شناختی کارڈ کے شمار سے معاوضہ دیا جائے جبکہ تباہ شدہ مکانات کے لئے بنایاگیا SOPکو تبدیل کرکے تباہ شدہ مکانات کے ساتھ مسمارشدہ قبائلی حجرے،دینی مدارس اور مساجد کو بھی خصوصی پیکیج کے ذریعے شام کیا جائے۔

دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں پیش کرنے والے ضلع خیبر کے ہزاروں متاثرین اور نقل مکانی کرنے والوں کی محرومیاں ختم کرنے کے لئے قبائلی پارلمینٹیرین اور صوبائی عوامی نمائندگان اسمبلی فلور پر تباہ شدہ مکانات کے سروے میں ضلع خیبر کے غریب متاثرین کے ساتھ ہونے والے نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔قبائلی مشران،عوامی نمائندگان اور سیاسی پارٹیوں کے مشران اس اہم ایشو کے لئے کھڑے ہوکر معروف کاروان کا ساتھ دیں تاکہ بیک آواز ہوکر اپنی تباہ شدہ ویران خانوں کو دوبارہ آباد کریں۔

ان خیالات کا اظہار معروف کاروان کے سربراہ حاجی معروف آفریدی،ممبر صوبائی اسمبلی حاجی شفیق آفریدی سمیت تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے درجن بھر سیاسی،سماجی،قبائلی اور نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والے علاقائی رہنماؤں نے باڑہ پریس کلب میں منعقدہ تباہ شدہ مکانات سروے کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار سے اپنے اپنے خطابات میں کیا ہے۔

ذکر شدہ تفصیلات کے مطابق اس ایک روزہ سیمینار جو معروف کاروان کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا نظامت کے فرائض باڑہ پریس کلب کے ممبر اور معروف ادبی شخصیت ثاقب آفریدی نے انجام دی۔

شرکائے سیمینار کو باڑہ پریس کلب کے نوجوان صدر خادم خان آفریدی نے خوش آمدید کہتے ہوئے معروف کاروان کے اس اہم ایشو پر سیمینار منعقد کرنے کے اس عمل کو سراہا جبکہ انہوں نے اس موقع پر باڑہ کے صحافی برادری کی جانب سے مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔موصوف کے مختصر کلمات کے بعد اس اہم سیمینار اور تباہ شدہ مکانات سروے تحریک کے سربراہ حاجی معروف خان آفریدی نے سمینار کا ایجنڈا بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کا کوئی سیاسی مقصد نہیں اور نہ کسی کو سیاسی سکورنگ،اناپرستی اور اپنی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس اجتماعی سیمینار کا بنیادی مقصد عرصہ دراز سے ضلع خیبر میں تباہ شدہ مکانات سروے میں بد نظمی،بد عنوانی اور نا انصافی کا آذالہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اہم مسلے کے حل کے لئے ہمیں ایک موثر آواز اٹھانے اور تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس کے لئے مقامی سطح پر تمام سیاسی وسماجی مشران،قبائلی عمائدین اور بالخصو ص نوجوانان اور ہر مکتب پر مشتمل ایک تھینک ٹینک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور آئیندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے اس کمیٹی کو ٹاسک دیا جائے گا۔

سیمینار سے باڑہ پریس کلب کے سابق صدر خیال مت شاہ آفریدی نے بھی اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ضلع خیبر کے اپریشن سے متاثرہ علاقہ تیراہ اور باڑہ میں تباہ شدہ مکانات کے لئے بنائے گئے ایس او پی اور طریقہ کار کو تبدیل کرنے اور نقل مکانی کرنے والے ہر متاثرہ شخص کو ایف ڈی ایم اے ڈیٹا کے مطابق مالی امداد دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تباہ شدہ مکانات کے لئے بنائی گئی ایس او پی کی وجہ سے قبائلوں کو آپس میں لڑانے اور رشتہ داروں کے درمیان دشمنیاں پیدا کی ہے اور اس قلیل مالی امداد کی وجہ سے دو بھائیوں کے معاوضوں کی رقوم کی حصول سے تنازعات بڑھ گئے ہیں۔سیمینار سے ایک قومی مشر مکرم خان نے کہا کہ حکومت نے قبائلوں کے ساتھ کشمیر اور فلسطین سے بھی زیادہ ظلم کیا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ ہماری آبا و اجداد کے بنائے گئے کروڑوں مالیت کے تاریخی مکانات کو تباہ کرکے ان کے بدلے ہمیں صرف چار لاکھ اور ایک لاکھ ساٹ ہزار کا معاوضہ دیا جاتا ہے جو کہ قربانی پیش کرنے والے قبائلی متاثرین کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق سے کم نہیں ہے۔

انہوں نے اپنی تجویز سیمینار شرکاء سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ باڑہ کے تمام متاثرین کو وی آر ایف فارم یعنی نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو مکمل گھر کی تعمیر کے لئے چار لاکھ روپے دئے جائیں۔

سیمینار میں شریک قبائلی مشر پیر عبداللہ شاہ نے کہا کہ سال 2014سے لیکر سابقہ پولیٹیکل انتظامیہ کے زیر انتظام کئے گئے تباہ شدہ مکانات کے سروے میں بہت ساری موجود ہے اور ان میں اکثر مکانات کی سروے اقرب پروری،پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ہوئی ہے اس لئے اب انضمام کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ سابقہ دور میں کنسل شدہ سروے پروگرام کو نہ صرف دوبارہ بحال کیا جائے بلکہ سروے سے محروم تمام متاثرین کو اپنے گھروں کا معاوضہ ملنا چاہئے،انہوں نے تباہ شدہ سروے کے تحریک اور معروف کاروان کے اس حوالے سے اقدام کو سراہتے ہوئے ہر قسم کی تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

سیمینار میں جرگہ پاکستان کے سربراہ عابد آفریدی نے ضلع خیبر میں متاثرین کے دیگر مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے خیبر کے قبائلوں سے مخلص نہیں ہے کیونکہ یہاں دہشت گردی کے باعث پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکی ہے،طبی سہولت کا فقدان،تعلیمی دارے تا حال ویران پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم عوامی نمائندگان،سیاسی وسماجی تنظیموں کے اپنے حقوق کے حصول کے لئے کھڑے ہیں،ہم نے اپنے آئینی حقوق کے لئے ایک ہونا ہے اور جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے ہمارا کوئی مسلہ بھی حل نہیں ہوگا۔

سیمینار سے تحریک متاثرین باڑہ کے سابق چیئرمین صحبت آفریدی نے سیمینار ٹائٹل کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ضلع خیبر میں فاٹا سکرٹریٹ کے اس وقت اعداد وشمار سے 22ہزار مکانات تباہ ہوئے تھے لیکن اب تک صرف 9ہزار خاندانوں کی سروے ہوئی جوکہ حکومتی اداروں اور موجودہ سیاست دانوں کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سیمینار سے جماعت اسلامی کے شاہ جہان آفریدی نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ تباہ شدہ مکانات سروے کے ساتھ ساتھ یہاں بنیادی مسائل کی حل کے لئے بھی مشترکہ لائحہ عمل کے تحت کمیٹیاں بنانا ضروری ہے،علاوہ اذیں جے یو آئی کے رہنماء مولانا محمد کفیل نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ قبائلی عوام کے مسائل کے حل میں ہر گز مخلص نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے مکانات کے کے علاوہ دینی مدارس اور مساجد بھی تباہ ہو چکے ہیں لیکن بنائے گئے ایس او پی میں ان کا ذکر تک بھی نہیں ہے اس لئے حکومت فی الفور نئے سرے سے باڑہ اور تیراہ میں تباہ شدہ مکانات کے ساتھ ساتھ دینی مدارس اور مساجد کی تعمیر بھی شامل کرکے معاووضوں کی ادائیگی یقینی بنائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معروف کاروان کے اس تحریک میں جمیعت العلمائے اسلام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

سیمینار کے دیگر شرکاء میں پی ٹی آئی باڑہ کے رہنماء اور ممتاز کاروباری شخصیت حاجی شاہ خالد آفریدی نے بھی اپنے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ باڑہ میں تباہ شدہ مکانات سروے نے تمام متاثرین کوتشویش میں مبتلا کردیا ہے اور اس مسلے کا بہترحل نکالنا ضروری ہے ہم حکمران پارٹی میں رہتے ہوئے اپنی ہی حکومت سے اس مسلے کی سنگینی کو مد نظر رکھ مثبت حل کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہے اور باڑہ آئی ڈی پیز کو بلا تفریق معاوضوں کے حصول میں شامل کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ مارکیٹوں اور تجارتی مراکز جو دہشت گردی کی وجہ سے مسمار ہوئے ہیں انہیں بھی وزیر ستان اور دیگر اضلاع کی طرز پر تعمیر نو کے منصوبوں میں شامل کرکے تاجر برادری کے تحٖفظات کو دور کیا جائے۔

سپاہ خدمت خلق کمیٹی کے صدر شیخ گل آفریدی نے سیمینار سے پیش کردہ تجاویز میں کہا کہ باڑہ میں دہشت گردی میں ہر قبیلے کے لوگ متاثر ہوئے ہیں اور یہاں تباہ شدہ مکانات کے علاوہ ہمارے روایتی مہمان خانے،حجرے اور نجی تعلیمی ادارے بھی تباہ ہو چکے ہیں اس لئے حکومت تباہ شدہ مکانات کے ایس او پی میں تجدید کرکے پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور ضلع خیبر میں ہر گھر میں تباہ شدہ حجروں کو بھی شامل کرکے ان کا الگ معاوضہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے حالیہ سروے طریقہ کار کے مطابق ان تمام گھروں کو سروے سے محروم رکھا ہے جس شخص یا مالک مکان پر دہشت گردی کا الزام ہیں یا بلیک ڈکلئر ہو چکا ہے لیکن یہاں سارا خاندان دہشت گردانہ واقعات میں تو شامل نہیں جبکہ دہشت گردی کے الزام میں مطلوباکثر لوگ یا افغانستان چلے گئے یا وہ مارے گئے ہیں لیکن اس کے الزام میں بھی بعض علاقوں میں حکومت نے ان کے رشتہ داروں اور بھائیوں کے حصے کا گھر بھی سروے میں شامل نہیں کیا ہے اس لئے حکومت ایسے غریب لوگوں کو بھی ریلیف کے لئے ایک طریقہ کار وضع کریں۔

سیمینار سے شیر احمد اور تاجر برادری کے چیئرمین سید آیاز وزیر اور باڑہ پریس کلب کے ممبر فاروق آفریدی نے بھی خطاب کیا اور اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تباہ شدہ مکانات سروے سے محروم رہنے والے باڑہ کے متاثرین کے ساتھ مکمل ہمدردی ہے اور معروف کاروان کی جانب سے اس اقدام کا بھر پور طریقے سے دفاع کیا جائے گا۔

سیمینار سے اپنے خطاب میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء حاجی ولایت آفریدی نے کہا کہ ضلع خیبر میں دہشت گردی کے شکار غریب قبائلوں پر ماضی میں سیاسی شعبدہ بازوں نے صرف اپنی سیاسی چمک دمک کی خاطر اپنے خدمات کو صرف میڈیا تک محدود رکھا تھا بلکہ ان کی اصل مسائل سے بے خبر تھے۔

انہوں نے سال 2013 کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے غریب آئی ڈی پیز جلوزئی کیمپ میں خیمہ زن تھے لیکن سیاسی لٹیرے وہاں صرف ووٹ مانگنے کی لالچ میں گئے جبکہ ان کی مسائل کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی تھی اور صرف ووٹ کا فائدہ اٹھا کر پھرخواب خرگوش سو گئے۔

انہوں نے وزیر ستان میں میرعلی بازار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میرعلی کے تاجروں کو 4ارب روپے معاوضہ دے سکتا ہے تو باڑہ میں بھی تاجروں کی تباہ کاریوں کے عوض بھی معاوضہ ادا کریں،انہوں نے کہا کہ باڑہ کا تاریخی بازار اور باڑہ مارکیٹ حکومت نے زبردستی مسمار کر کے سرکاری اراضی قرار دی اور تاجروں کے حقوق کو ثبوتاژ کردیا۔

انہوں نے معروف کاروان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے باڑہ میں تباہ شدہ مکانات کے اس سنگین مسلے کی حل تک بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی،علاوہ اذیں جمیعت العلمائے اسلام قبائلی اضلاع کے مالیاتی ناظم مولانا شمس الدین آفریدی نے موجودہ حکومت کو ٹارگٹ کرتے ہوئے کہا کہ اپریشنوں سے تباہ شدہ مکانات کے لئے جو بیرونی فنڈملی ہے وہ موجودہ حکومت کے افسران نے بینکوں میں رکھ کر اس پر سودی کاروبار کر رہے ہیں اور تباہ حال قبائلی آئی ڈی پیز کو مختلف حیلے بہانے بنا کر حرام کمائی میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت یہاں اپریشن کئے گئے اور ان ہی ایجنڈے کے تحت بیرونی ممالک سے فنڈ اکھٹا کرکے قبائلوں کو اپنے حقوق سے محروم رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمیعت العلمائے اسلام قبائلی حقوق کے لئے ہر فورم پر لڑی ہے اور یہاں معروف کاروان کی اس فورم سے بھی ان مظلوم قبائلوں کے لئے مشترکہ طور پر مظبوط اور موثرآواز اٹھا کر اپنے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو چایئے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور قبائلوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی بجائے انہیں اپنے آئینی حقوق دے کر مزید ان کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔

انہوں نے سی ایل سی پی اور متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے تباہ شدہ مکانات سروے کی ایس او پی کو مسترد کرتے ہوئے سیمینار میں اپنی تجاویز پیش کیں انہوں نے کہا کہ موجودہ تباہ شدہ مکانات سروے میں جزوی تباہی کو مکمل تباہی تصور کیا جائے ہر جزوی تباہ شدہ مکان کو بھی چار لاکھ روپے دے دی جائے

سیمینار سے عوامی انقلابی لیگ کے صدر عطااللہ آفریدی نے معروف کاروان کی اس کوشش کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح جنوبی وزیر ستان میں اپنے معاوضوں کو بڑھانے کے لئے سروے عمل بند کیا گیا اسی طرح ضلع بھر میں سروے کو بند کرکے اپنے مطلوبہ مطالبات ماننے تک حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیریستان کے متاثرین نے ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کیا اس لئے انہیں آج دیگر اضلاع کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنماء حاجی عبدالخنان آفریدی نے بھی باڑہ میں تباہ شدہ مکانات کی سروے میں حکومتی چشم پوشی اور غریب متاثرین کو حقوق نہ ملنے پر کڑی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ باڑہ کے تمام سیاسی وسماجی تنظیموں کو اپنے حقوق کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے اور اگر ہم اپنے حقوق کے لئے متحد نہ ہوئے تو حکومت ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

سیمینار کے میں شریک ممبر صوبائی اسمبلی اور ڈیڈک کے چیئرمین حاجی شفیق آفریدی نے سیمینار میں صبر ازما انتظار کے بعد اپنے خطاب میں تباہ شدہ مکانات کے سروے کے حوالے سے کہا کہ سیمنار سے پہلے بھی وزیر اعلیٰ اور متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ باڑہ اور تیراہ میں تباہ شدہ مکانات سروے اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے کے بارے گفتگو ہوئی ہیں اور اب جبکہ یہ عوامی تحریک شروع ہوئی ہیں انشا اللہ اسمبلی فلور کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکام سے ہر صورت میں عوامی مطالبات کو اہمیت دی جائے گی۔

سیمینار کے آخر میں سیمینار منعقد کرنے والے معروف کاروان کے سربراہ حاجی معروف آفریدی نے مختصر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے تحصیل باڑہ کے تمام قبیلوں،سیاسی وسماجی،کاروباری اور ہر مکتب فکر لوگوں پر مشتمل ایک تھینک ٹینک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی انہوں نے کمیٹی کو باڑہ میں تباہ شدہ مکانات سروے کے حوالے تمام تر تفصیلات،متعلقہ اداروں،سول انتظامیہ اور سی ایل سی پی کے منتظمین سے ملاقاتیں کرنے کا ٹاسک دیا۔

انہوں نے کہا اس سلسلے میں جو کمیٹی تشکیل دی جائے گی وہ ہر صورت میں اپنے خدمات پیش کرکے اس مسلے کا بہتر حل نکالیں گے۔اس طویل جدوجہد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ معروف کاروان کھبی بھی اس کارخیر کی کریڈٹ نہیں لیں گے بلکہ اس بہتر اور مخلصانہ کاوش کی سوچ کو فروغ دینے پر میں سوشل ورکر حاجی جعفر آفریدی کو کریڈٹ دوں گا کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر بارہا اس تحریک اور کوشش کے اصل حقدار ہے۔