جنوبی وزیرستان آپریشن: احمدزئی وزیر قبائل کے عمائدین کا جرگہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا میں احمدزئی وزیر قبائل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثر، معذور اور شہید ہونے والے افراد کے معاوضے کے حوالے سے رستم بازار وانا میں گرینڈ جرگہ کیا۔ جس میں احمدزئی وزیر قبائل کے مشران اور نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر ملک شیرین جان وزیر نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگوں کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی قربانیں دیں ہیں، سرزمین وانا کے شہدا کی ایک لمبی فہرست ہے۔ کئی نوجوان اور قومی مشران شہید کردئیے گئےاور وانا میں ہزاروں گھروں کو یا تو مسمار کیا گیا یا جزوی نقصان پہنچایا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے علاقے کے لوگ غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہے حکومت کو چاہئے کہ دیگرقبائلیوں کی طرح وہ ہمارے نقصانات کا ازالہ کرے۔

اس موقعہ پر ملک شہریار وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ احمدزئی وزیر قبائل متاثر ہوئے ہیں پھر بھی احمدزئی وزیر قبائل کو ابھی تک مغاوضہ نہیں دیا گیا حکومت کو چاہئے کہ باقی قبائل کے برابر معاوضہ دے۔

انہوں نے کہا کہ ازبک، تاجک، عرب، اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگوں میں حکومت کا شانہ بشانہ ساتھ دیا۔ دہشت گردی کی جنگ میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اس موقع پر ملک غفار وزیر نے کہا کہ حکومت احمدزئی وزیر قبائل سے سوتیلی ماں جیسے سلوک کر رہی ہے۔ جو قابل افسوس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج تک مختلف آپریشنوں سے متاثرہ افراد کو حکومت کی جانب سے نہ معاوضے ملے ہیں اور نہ ہی مالی تعاون۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے بعض حصوں میں اپریشن سے متاثرہ افراد کے لواحقین کو معاوضے دئیے جارہے ہیں اور سروے شروع کئے گئے ہیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ہمیں بھی اپنے حقوق دیئے جائیں۔

اس موقع احمدزئی وزیر کے مشران نے کہا کہ اس پر آگے لائحہ عمل طے کرینگے۔