سانحہ بونیر : سلائیڈنگ سے ریسکیو آپریشن تک

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ماربل کان میں سلائیڈنگ

بونیر میں ایک ماربل کان میں سلائیڈنگ کے نتیجے میں 30 سے زائد مزدور ملبے کے نیچے دب گئے ہیں جن میں سے نو افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آٹھ افراد کو زخمی حالت میں بھی نکال لیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ واقعہ دوپہر کے وقت بامپوخہ میں پیش آیا ہے اورجائے واقعہ پر امدادی کاروائیاں جاری ہے جسمیں نزدیک گاوں کے لوگ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق جس جگہ پر واقعہ رونما ہوا ہے یہ ماربل کا کان کافی عرصے سے بند پڑا تھا اور نزدیک اور کانوں کے مزدور یہاں پر کھانے کیلئے ایک ہوٹل میں جمع ہوتے تھے اور اس دوران اچانک پہاڑ کا ایک پڑا حصہ گر پڑا۔

مجموعی طور پر ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں آٹھ زخمی مزدور پہنچائے گئے جن میں سے تین کو تشویش ناک حالت میں پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کان کے قریب تر ہسپتال آر ایچ سی جوڑ بھی زخمیوں کو پہنچایا گیا۔

ڈپٹی کمشنر بونیر خالد خان خود موقع پر پہنچ گئے ہیں اور امدادی کاروائیوں کی خود نگرانی کررہے ہیں، مقامی لوگوں نے صوبائی حکومت اور ریسکیوں اداروں سے امداد کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ بونیر میں ریسکیو ون ون ٹوٹو نہیں ہے اور سوات سے ریسکیو ٹیمیں بونیر کی طرف آرہی ہے۔

 لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ریسکیو اپریشن

بونیر میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ریسکیو اپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ملبے سے اب تک آٹھ افراد کی لاشیں اور سات کو زخمی حالت میں نکالا جا چکا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق بامپوخہ علاقے میں گزشتہ روز ایک غیر فعال ماربل کان پر اس وقت پہاڑ کا ایک حصہ آ گرا تھا جبکہ وہاں پر دوسرے ماربل کانوں کے مزدور کھانا کھانے کے لئے جمع تھے.

واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مقامی افراد نے خود ریسکیو اپریشن شروع کیا تھا جبکہ بونیر میں ریسکیو محکمہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے شدید مشکلات سامنے آ رہے تھیں۔ بعد ازاں سوات اور مردان سے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے بھی مشینری سمیت حادثے کے مقام پر پہنچ کر اپریشن میں حصہ لیا تھا جبکہ ضلعی انتظآمیہ نے پاک فوج کے جوانوں سے بھی تعاون طلب کی تھی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ دن کے بعد ساری رات کو بھی ریسکیو اپریشن جاری رہا جبکہ آج صبح سات بجے تھوڑی دیر ارام کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر لطیف الرحمان کا کہنا ہے کہ ملبے سے ابھی تک آٹھ افراد کی لاشیں اور سات کو زخمی حالت میں نکال کر ڈگر ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملبے کے نیچے مزید دو یا تین افراد کی لاشوں کی موجودگی کا امکان ہے جن کے نکالنے تک اپریشن جاری رہے گا۔

دوسری طرف ڈگر ہسپتال نے حادثے کے متاثرین کی تفصیلات جاری کردی ہیں جن کے مطابق جاں بحق افراد میں چار کا تعلق بونیر، دو کا خیبر اور ایک کا سوات سے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمی افراد میں بھی تین کو نازک حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور اور ایک کو مردان میڈیکل کمپلکس منتقل کیا جا چکا ہے۔

 جاں بحق افراد اور زخمیوں کیلئے معاوضوں کا اعلان

ڈپٹی کمشنر بونیر محمد خالد نے بامپوخہ ماربل کان میں لینڈسلائیڈنگ کے بعد شروع ہونے والے ریسکیو آپریشن کو ختم کر اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن میں پولیس، پاک آرمی کے جوانوں اور ریسکیو 1122کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوگئے ہیں، صوبائی حکومت کی جانب سے جاں بحق افراد کیلئے فی کس 5 لاکھ جبکہ زخمیوں کیلئے فی کس ایک ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔

صوبائی معاون خصوصی پبلک ہیلتھ ایم پی اے ریاض خان نے واقعہ کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کردی،علاقے کو کلیئر قرار دیا گیا اس میں لاش یا زخمی کے کوئی آثار موجود نہیں۔

دوسری جانب سانحہ کے دورے روز بھی بونیر کی فضاء سوگوار رہی، ایم این اے شیر اکبر خان، معاون برائے پبلک ہیلتھ ایم پی اے ریاض خان، چیئرمین ڈیڈک ایم پی اے سید فخر جہان باچا کے علاوہ ڈپٹی کمشنر محمد خالد، اے سی لطیف الرحمن انتظامیہ اور محکموں کے دیگر افسران آپریشن کی نگرانی اور امدادی کاروائیوں میں مصروف رہے جبکہ کثیر تعداد میں سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام علاقہ موجود تھے۔

ادھر بامپوخہ کے مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ مائینز کو بلاسٹنگ پر پابندی لگانی چاہیے اور اس کی کٹنگ کو پراپر طریقے سے کیا جائے کیونکہ اس سے ایک طرف گاؤں کے مکین ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں تو دوسری جانب اس سے جانی نقصانات کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔