ضلعی ہیڈ کوارٹرہسپتال میرانشاہ میں مریض گھرسے پنکھے اور بیٹری لانے پرمجبورکیوں؟

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شمالی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ ھیڈکواٹر ہسپتال میرانشاہ میں 18 ،18 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہسپتال میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر وارڈ خالی ہے اور مریض گھر یا پھر بنوں اور پشاور کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ چلڈرن وارڈ میں داخل خون کے مریض بچے کے والد یوسف خان نے کہا کہ وارڈ میں بجلی نہیں ہے اور گرمی زیادہ ہے اس لئے وارڈ خالی ہے۔

ای این ٹی وارڈ میں موجود ایک مریض کے ساتھ تیماردارعبداللہ نے کہا کہ گرمی بہت زیادہ ہے اور کوئی پرسان حال نہیں ہے، مچھروں سے بچاو کے لئے ہاتھ کے پنکھے سے کام چلانا پڑتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بیٹری اور پنکھے گھر سے لائے ہیں۔

ہسپتال کی سرجیکل وارڈ میں بھی داخل مریض بجلی نہ ہونے اور گرمی کی وجہ سے سرجیکل وارڈ کے برآمدے اور کھلے صحن میں پڑے ہوتے ہیں۔  پیٹ کا آپریشن کرنے والے مریض خامد خان نے کہا کہ بجلی نہیں ہے ہم گرمی سے مجبور ہے کہ وارڈ سے باہر رات گزارے مچھر بھی ہے، حکومت ہسپتال کی بجلی کو 24گھنٹے یقینی بنائے۔

ہسپتال کے ایمرجنسی پر موجود ڈاکٹرعظیم اللہ نے کہا کہ رات کے وقت لوڈشیڈنگ ایمرجنسی مریضوں پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، زخموں پر مرہم پٹی اورانجکش لگانے میں مشکلات پیدا ہوتی ہے۔

ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر سلطان محمد نے کہا کہ شمالی وزیرستان کا ضلعی ھیڈکواٹرہسپتال پورے قبائلی اضلاع میں بہتر کارکردگی کی بنیاد پر دوسرے نمبر پر شمار ہوتا ہے سب سے زیادہ او پی ڈی آپریشن اور دیگر سہولیات ہے لیکن بدقسمتی سے ہسپتال پر بھی واپڈا کی ناروا 18،18 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ڈی سی، پاک فوج اور متعلقہ ادارے واپڈا کے حکام کو آگاہ کردیا ہے کہ کم از کم هسپتال کے بجلی کو ایمرجنسی بنیادوں پر 24گھنٹے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔