پشاور میں پہلے سرکاری بزنس آوٹ سورسنگ ریڈی فیسلیٹی کا افتتاح

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پشاور میں ملک کے پہلے سرکاری بزنس آوٹ سورسنگ ریڈی فیسلیٹی (ورک اراونڈ) کا افتتاح کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں قائم ورک آراونڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیااللہ بنگش نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے، ہم صوبے کو ڈیجٹلائز اور آئی ٹی سیکٹر کو فروع دینے کے لئے کمربستہ ہیں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش، سیکرٹری سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ظفراقبال، منجینگ ڈائریکٹر آئی ٹی بورڈ ڈاکٹرشہباز خان، سائبرڈ کمپنی کے سی ای او اطہر عمران، جے ٹیلی مارکیٹنگ کے سی ای او حیدرجنجوعہ، ورلڈ بینک کے نمائندے اوردیگر شرکاء بھی موجود تھے۔

اس موقع پر مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیااللہ بنگش کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان اور نوجوانوں کے لئے باعزت روزگار فراہم کرنے کے وژن کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں، بی پی او ریڈی فیسلیٹی کے افتتاح سے خیبرپختونخوا کے سات سو (700) سے زائد نوجوانوں کو نوکریاں میسر ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو پشاور کے بعد صوبے کے دوسرے اضلاع تک توسیع دی جائے گی جس سے ہزاروں مزید نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بی پی او کا مقصد بین الاقوامی کمپنیوں کو صوبے میں کاروبار کے لئے راغب کرنا ہے، صوبائی حکومت تمام ڈونر پارٹنرز اور بی پی او آپریٹر کمپنیوں کو تمام تر سہولیات فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سرمایہ کاری کے لئے موذوں ترین صوبہ ہے، خیبر پختونخوا میں قابل نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور یہ کسی بھی میدان میں اپنا لوہا منواسکتے ہیں، ہمارے درشل اینکوبیشن سنٹرز، یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کے نوجوانوں حتٰی کہ ارلی ایج پروگرامنگ کے ننھے بچوں نے گزشتہ چند برسوں میں ثابت کردیا ہے کہ ان کو صرف اور صرف مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ ہر میدان میں ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کرسکتے ہیں۔

ضیااللہ بنگش کا مزید کہنا تھا کہ ان کا محکمہ ڈیجیٹل خیبر پخونخوا 2020 سٹریٹجی اور ڈیجیٹل پالیسی پر دن رات کام کر رہا ہے، اس پالیسی کے تحت صوبے کے تمام محکموں کو ڈیجیٹلائز کیا جارہا ہے جبکہ صوبے کے مخلتف اضلاع میں شہریوں کی سہولیات کے لئے سٹیزن فیسلیٹیشن سنٹر کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس سے ایک چھت تلے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم ہوں گی۔

تقریب سے خطاب کے دوران ضیااللہ بنگش نے کہا کہ پشاور ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام کے لئے صوبائی حکومت 25 کنال اراضی خرید چکی ہے جبکہ پاکستان ڈیجیٹل کمپلکس ہری پور بھی 80 کنال اراضی پر تعمیر کیا جائے گا اور ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام کو صوبے کے تمام زونز تک توسیع دی جائے گی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل خیبر پختونخوا اور ڈیجیٹلائزیشن کی شروعات محکمہ بلدیات سے شروع کر رہے ہیں۔

انہوں نے ملک کی پہلے بی پی او کے قیام پر آئی ٹی بورڈ کو مبارکباد دی اور اس اقدام کو صوبے کے نوجوانوں کے لئے انقلابی اقدام قرار دیا۔