نیوٹریشن ڈیپارٹمنٹ قبائلی اضلاع مالی بحران سے دوچار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

نیوٹریشن ڈیپارٹمنٹ قبائلی اضلاع مالی بحران سے دوچار ہے, 60 کروڑ روپے کے سالانہ فنڈز میں سے اب تک صرف 64 لاکھ روپے ملے ہیں جن میں سے افسران اور ملازمین کی تنخواہیں بھی بمشکل پوری ہوتی ہیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگ میں ذرائع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے نیوٹریشن پروگرام کو جاری رکھنے کے حوالے سے پورے ملک میں ایمرجنسی ڈیکلیئر کی ہے تاہم قبائلی علاقوں میں اس پروگرام کا ابھی تک پی سی ون منظور ہو چکا ہے اور باقی امور کا ابھی تک آغاز ہی نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ نیوٹریشن پروگرام کے متعلقہ افسران کے لئے ابھی تک آفس کا انتظام بھی نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ عارضی طور پر کسی اور محکمہ کے دفتر میں وقت گزاری کرنے پر مجبور ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیوٹریشن پروگرام کو چلانے کے لئے 103 میں 99 آسامیاں خالی پڑی ہیں جن کی منظوری کے لئے حکومت کو سفارشات ارسال کی گئی ہیں، 8 ڈسٹرکٹ نیو ٹریشن اسسٹنٹ, لاجسٹک آفیسرز اور 66 خواتین سٹاف کی آسامیاں خالی ہیں جبکہ 86 ارکان پر مشتمل سٹاف یونیسیف پروگرام کے تحت کام کرتا یے جس کا نیوٹریشن پروگرام سے کوئی تعلق نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پہلے ڈبلیو ایچ او کی طرف سے حاملہ خواتین کے لئے چاکلیٹس ملتی تھیں جو ابھی کافی سے بند ہیں تاہم معلوم ہوا ہے کہ اب نیوٹریشن پروگرام کے تحت 64 لاکھ روپے جو پہلی سہہ ماہی میں ریلیز کئے گئے ہیں اس میں سے 35 ہزار خشک دودھ کے ڈبے مل چکے ہیں جن کو حاصل کرنے  کے لئے متعلقہ قبائلی اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کو خطوط لکھ دیئے گئے ہیں کہ وہ آکر اپنے اپنے حصے کے دودھ کے ڈبے لے جائیں جو صرف بچوں کے لئے ہیں اور چلڈرن ماہرین کی پرچی پر ملیں گے اور یہ سب کچھ حکومت کے پہلے 100 دنوں کے پروگرام کا حصہ ہے تاہم اس سے آگے اس پروگرام کو چلانے کے لئے کچھ بھی نہیں دیا گیا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

ذرائع کے مطابق 60 کروڑ میں سے ابھی تک 64 لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں جس سے اس پروگرام کو چلانا ناممکن ہے, پروگرام منیجر کے پاس گاڑی چلانے کے لئے اپنا ڈرائیور بھی نہیں اور کہیں اور سے انہوں نے ڈرائیور کا بندوبست کیا ہے، متعلقہ حکام کو مشکلات درپیش ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کو کچھ ماہ تک دو ہزار روپے دینا ہوتے ہیں جو کہ اس محدود فنڈ میں ناممکن ہیں البتہ جو پہلی قسط جاری کر دی گئی ہے اس میں سے ہر ہسپتال کو پانچ, پانچ لاکھ روپے دیئے جا چکے ہیں اور اگر جون کے بجٹ تک باقی ساری رقم جاری نہ کی گئی تو خدشہ ہے کہ عین بجٹ کے موقع پ رقم جاری ہونے کے باوجود خرچ نہیں ہو سکے گی۔

قبائلی علاقوں سے تعلق  رکھنے والے بعض افراد نے نیوٹریشن پروگرام کو قبائلی اضلاع میں مؤثر انداز میں چلانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بہت مفید پروگرام ہے، موجودہ حکومت نے نیوٹریشن ایمرجنسی پورے ملک میں ڈیکلیئر کی ہے تاہم قبائلی اضلاع میں یہ پروگرام کچوے کی رفتار سے بھی سست انداز میں جاری ہے جو صرف ایک کرائے کے آفس اور چند اہلکاروں تک محدود ہے، پروگرام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ قبائلی عوام کو اس سے مستفید ہونے کا موقع مل سکے۔