جو مزہ تیراہ میں ہے وہ کہیں اور نہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی علاقوں کے حسین و سرسبز پہاڑ، چشمے و آبشار، گھنے جنگلات و تاریخی مقامات، مخصوص ثقافتی آثار اور مشہور و مرغوب ماکولات کی کشش سیاحوں کو ہمیشہ سے اپنی طرف کھینچتی آرہی ہے تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران بدامنی و خراب حالات سے دیگر شعبہ جاتِ ہائے زندگی کی طرح یہاں سیاحت بھی کافی متاثر ہوئی۔

تاہم نقل مکانی کی زندگی اور متاثرین کی اپنے علاقوں میں واپسی کے بعد قبائلی علاقوں میں زندگی پھر سے اسی ڈگر پر رواں ہوتی نظر آرہی ہے اس چھوٹی عید پہ سیاحوں کی ریکارڈ تعداد میں آمد جس کی ایک بڑی مثال ہے۔

محکمہ کھیل و سیاحت کے وزیر محد عاطف خان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں دیگر بحالی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کے لیے بھی نہ صرف کہ مقامی لوگوں بلکہ حکومت کی جانب سے بھی کوششیں جاری ہیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں سیاحت کے مواقع بہت ہیں تاہم حکومت کو سب سے پہلے امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے اور پھر ان مقامات کی نشاندہی کرنا ہے جہاں کم مدت میں زیادہ ترقیاتی کام ممکن ہوں اور جو سیاحتی مراکز بن سکیں۔

قبائلی عوام دوسری جانب اگر حکومتی اقدام کو سراہتے ہیں تو بعض کے کچھ مطالبات بھی ہیں۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن دلاور وزیر کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی حالات مزید بہتر اور حکومت کی جانب سے سہولیات و بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تو دنیا کے مختلف حصوں سے سیاح یہاں آسکتے ہیں جس کے ساتھ مقامی بازار، ہوٹل اور پارک سب آباد اور مقامی آبادی خوشحال ہوگی۔

دلاور وزیر نے کہا، ‘باہر سے لوگ یہاں آئیں گے تو اپنے ساتھ یہاں کی حسین یادیں لے کر جائیں گے جس سے (دنیا بھر میں پھیلا) یہاں بارے عام تاثر بدل جائے گا۔’

وزیرسیاحت کے مطابق صوبہ بھر میں حکومت نے 25 ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں سیاحت کے فروغ کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے جن میں سے دو مقامات قبائلی اضلاع کے بھی شامل ہیں۔

ان میں سے ایک ہنگو سے متصل اورکزئی ضلع کا علاقہ سمانہ جبکہ دوسرا ضلع کرم ہے۔

عاطف خان کے مطابق ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں پسماندگی کا شکار قبائلی عوام کی ترقی کیلئے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں سیاحت کو صنعت کا درجہ دیا جارہا ہے۔

ادھر سمانہ سے تعلق رکھنے والے مظاھر دانش نامی طالب علم کے مطابق قبائلی علاقوں میں سیاحت کے مواقع ہیں تو بہت تاہم سڑک، ہوٹل و ایسی دیگر سہولیات کے فقدان کے باعث لوگ وہاں جانے سے گریز ہی کرتے ہیں۔

مظاہر دانش کے مطابق سمانہ قدرتی حسن سے مالا مال ایک علاقہ ہے جو معمولی توجہ کے ساتھ سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے لیکن سب سے پہلے آمد و رفت اور مہمانوں کی رہائش کا بندوبست ضروری ہے۔

‘یہاں کی سڑکیں ساری ٹوٹی پھوٹی جبکہ علاقہ میں کوئی ہوٹل ہے نہ ایسی بنیادی سہولیات جو سیاحت کیلئے ضروری ہوتی ہے۔’، مظاھر دانش نے مزید وضاحت کی۔

دوسی جانب ضلع اورکزئی کی گل رخ بی بی شاکی ہیں کہ مرد تو عید اور ایسے دیگر مواقع پر سیر سپاٹے کرلیتے ہیں تاہم قبائلی روایات کے باعث خواتین وہاں نہیں جاسکتیں جہاں چہل پہل ہو تو اگر حکومت خواتین کیلئے مخصوص مقامات یا پارک بنائے تو خواتین خوشی سے نہال ہوجائیں گی۔

گل رخ بی بی نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ خواتین کیلئے مخصوص پارکس بنائے اور سیکیورٹی انتظامات بھی بہتر کرے کہ اگر کوئی باہر سے بھی آئے تو بھی اسے کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو۔

گل رخ کی نسبت پاراچنار کی نگینہ بی بی مگر اپنے علااقے کی روایات سے مطمئن ہیں اور کہتی کہ عید پر مردوں کے ہمراہ وہاں کی خواتین بھی سیاحتی مقامات کی سیر کیلئے نکلیں اور بہت لطف اندوز ہوئیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں نگینہ بی بی نے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگ تو آبشاروں ، چشموں اور دیگر حسین مقامات کی سیر کرتے ہین لیکن بندوبستی علاقوں سے سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے (کیونکہ) لوگوں کے دلوں سے جب تک خوف دور نہیں ہوتا تب تک سیاحت ممکن نہیں۔

 

انہیں یہ گلہ بھی ہے کہ سیاح ایسے مقامات کو اکثر کچرے کا ڈھیر بنا دیتے ہیں جس سے وہاں کا حسن متاثر ہوتا ہے۔

دیگر قبائلی علاقوں کی نسبت عیدِ گزشتہ پر قبائلی ضلع خیبر کے حسین مقامات خصوصاَ تیراہ کی سیر کیلئے نہ صرف مقامی لوگ بلکہ پنڈی تک سے سیاح بڑی تعداد میں آئے تھے جن میں سے ایک پشاور کے یاسر خان بھی تھے۔

یاسر جن کا ٹیکسلا اور پنڈی سے آئے دوستوں کے ساتھ تیراہ جانا ہوا کہتے ہیں کہ بڑے حسین حسین مقامات انہوں نے دیکھے ہیں لیکن جو مزہ تیراہ میں ہے وہ کہیں اور نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سہولیات کے فقدان کے باوجود وہاں کے لوگوں نے ان کی خوب قدر افزائی کی، تیراہ کا سارا حسن وہ اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرچکے ہیں۔

امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے ساتھ برسوں بعد گزشتہ عید پر سیاحوں نے ہزاروں کی تعداد میں خیبر کے دلکش مقام میدان کا رخ کیا۔

تیراہ کے مقامی مشر حاجی جناب گل کہتے ہیں کہ مقامی لوگ سارے سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں تاہم انہیں بھی ہماری روایات و ثقافت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

حاجی جناب گل شاکی ہیں کہ بعض نوجوان تیز آواز سے مموسیقی سنتے ہیں تو بعض بغیر اجازت کے مقامی چشموں پر جاتے ہیں جو مقامی لوگوں کیلئے باعث رنج و تکلیف ہے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں حاجی جناب گل نے کہا، ‘ یہاں جو سیاح اتے ہیں مقامی لوگوں کے پاس ہی اتے ہیں اس لیے جب وہ گھومیں پھریں تو کسی مقامی شخص کو ساتھ لیا کریں کیونکہ ادھر چشموں یا دیگر جگہوں پر اکثر خواتین موجود ہوتی ہیں۔؛