خرلاچی (پاک افغان بارڈر) پر تاجروں کا احتجاجی مظاہرہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع کرم کے تاجر رہنماؤں کا پاک افغان بارڈر (خرلاچی) میں تاجروں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا.

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ درآمدات اور برآمدات کیلئے روٹ پاس بحال کی جائے اور کورنٹائن ، متعلقہ چیمبر کا آفس پاک افغان بارڈر خرلاچی میں کھول دیا جائے

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ٹریڈ یونین کے صدر ملک زرتاج حسین ، نائب صدر سید جمشید حسین ، کلیئرنگ ایجنٹ صدر نوید حسین طوری اور کلیئرنگ نائب صدر عادل جان مینگل نے کہا کہ پاک افغان بارڈر خرلاچی پر تجارتی گاڑیوں کیلئے روٹ پاس کی بندش کے باعث ان کا کاروبار شدید طور پر متاثر ہوگیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ان کا کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے.

ٹریڈ رہنماؤں نے کہا افغان اور پاکستانی ایمبیسی نے روٹ پاس کی اجازت دی ہے مگر ایک کلکٹر انہیں منسوخ کرتا ہے جو کہ سراسر ظلم اور ذیادتی ہے رہنماؤں نے کہا کہ کورنٹائن سرٹیفیکیٹ کا دفتر سو کلومیٹر دور ہونے کے باعث وہ بروقت گاڑیوں کیلئے کورنٹائن سرٹیفیکیٹ مہیا نہیں کرسکتے جس سے ان کی گاڑیوں میں لدھے مال خراب ہورہے ہیں.

رہنماؤں نے کہا کہ چیمبر سرٹیفیکیٹ کے حوالے سے بھی انہیں مشکلات کا سامنا ہے ایک علاقے کا چیمبر سرٹیفیکیٹ لگاتے ہیں تو دوسرے چیمبر والے انہیں مسترد کرتے ہیں جس کے باعث وہ شدید پریشانی سے دوچار ہوگئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ وہ ماہانہ کے حساب سے کڑوروں کا ٹیکس دیتے ہیں مگر اس کے باوجود انہیں مختلف طریقوں سے تنگ کیا جاتا ہے جس سے ان کا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے.

تاجر رہنماؤں نے کہا کہ ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت پاک افغان خرلاچی بارڈر پر تاجروں کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.

انہوں نے وزیر اعلی ، پاک آرمی کے بریگیڈیئر نجف عباس ، ایم این اے ، ایم پی اے ، سینیٹر اور کسٹم کلکٹراور دیگر متعلقہ حکام سے پر زور مطالبہ کیا کہ روٹ پاس کی بحالی،کورنٹائن اور متعلقہ چیمبر کا آفس خرلاچی میں کھولنے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ تاجروں کو امپورٹ ایکسپورٹ میں آسانی ہو بصورت دیگر وہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے.