ضم شدہ اضلاع میں پولیسنگ پر خصوصی توجہ مرکوز

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضم شدہ اضلاع میں پولیسنگ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے جبکہ صوبائی حکومت اس ضمن میں تمام تر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے گی ۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ پولیس کو نئے ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے تمام تر سمریز باالخصوص بھرتیوں اور فنڈز کی فراہمی کے کیسز پر عملدرآمد تیز تر کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے جاری فنڈز کے استعمال کو مقررہ وقت کے اندر بروئے کار لایا جائے اور کہا ہے کہ اس ضمن میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی ۔

نئے ضم شدہ اضلاع میں پولیس کی کارکردگی بہتر کی جائے اور امن و امان کی صورتحال مزید بہتر کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں ۔

اُنہوں نے کہاکہ نئے ضم شدہ اضلاع میں پولیسنگ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے جبکہ صوبائی حکومت اس ضمن میں تمام تر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے گی ۔

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے محکمہ پولیس کو درکار وسائل کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔

اجلاس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاﷲ عباسی ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر ودیگر سول و پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

اجلاس کو نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بہتر پولیسنگ کیلئے محکمہ پولیس کو درکار وسائل و ضروریات کے حوالے سے تفصیلی بریفنیگ دی گئی ۔

اجلاس کو نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پولیس کی مختلف شعبہ جات جن میں پولیس یونیفارم ، ٹرانسپورٹ ، آرمز اینڈ ایمونیشن ، جدید آلات ، انفراسٹرکچر ، ٹریننگ و دیگر ضروریات اور ان کے لئے درکار فنڈزکے بارے تفصیلاً آگاہ کیا گیا ۔

نئے ضم شدہ اضلاع میں یونیفارم کیلئے درکار فنڈ کی سمری منظوری کیلئے بھیجی گئی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ کیلئے 289.8 ملین روپے منظور اور ریلیز کئے گئے ہیں جس سے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پولیس کیلئے 78 گاڑیاں خریدی جائیں گی جبکہ مزید 421 گاڑیوں کیلئے 2154.79 ملین روپے اضافی فنڈ درکار ہوں گے ۔

آرمز اینڈ ایمونیشن کی خریداری کیلئے سمری محکمہ داخلہ کو بھجوائی گئی ہے ، جس کی کل لاگت3064.125 ملین روپے ہے ۔

نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پولیس کو جدید آلات سے لیس کرنے کیلئے سمری صوبائی حکومت کو بھیجی گئی ہے جس پر کل لاگت 3586.52 ملین روپے آئے گی۔ آلات میں ٹیلی کمیونیکشن ، پروٹیکٹیو گیئرز اور اے پی سیز وغیرہ شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کیلئے 7377 ملین روپے منظور ہوئے ہیں جس میں 1800 ملین روپے مالی سال 2019-20 کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔ لیویز اور خاصا دار فورس کی تربیت کیلئے پی سی ون کی منظوری ہو چکی ہے جس کی کل لاگت 1267.727 ملین روپے ہے ، جس میں 185 ملین روپے ریلیز کئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ فنڈ اگلے دو سال میں ریلیز کئے جائیں گے ۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ محکمہ پولیس کو نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میںجامع پولیسنگ کیلئے ضروریات کی مد کل 9622.037 ملین روپے درکار ہوں گے ، جن کے لئے کیسز صوبائی حکومت کو بھیجی جاچکی ہے۔

اجلا س میں نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پولیس کی کارکردگی اور امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کیلئے سمریز اور فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا ۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی دیر پا ترقی ممکن بنا رہی ہے جبکہ وہاں پر امن وامان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کیلئے محکمہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائے گی ۔