قبائلی اضلاع میں وومن فیسلیٹیشن سنٹر کے لئے پی سی ون منظور

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

محکمہ سماجی بہبود خیبر پختونخوا کی جانب سے وومن امپاورمنٹ پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے پشاور میں مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی رخشندہ ناز، ممبران صوبائی اسمبلی عائشہ بانو، ساجدہ حنیف، زینت بی بی اور مختلف محکموں کے حکام نے شرکت کی۔

ورکشاپ سے خطاب میں صوبائی محتسب رخشندہ ناز کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے بنائی گئی اس پالیسی سے خواتین کو معاشرے میں اپنا جائز مقام حاصل ہوگا اور ائین میں ان کے لئے دیئے گئے حقوق کی پاسداری ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ اداروں میں خواتین کی شراکت داری یقینی بنانے سے ادارے اور بھی مضبوط ہوں گے۔

رخشندہ ناز کا کہنا تھا کہ ورکشاپ کا مقصد پالیسی میں موجود خامیوں کو ختم کرنا اور اسے مزید بہتر بنانا ہے تاکہ کام کی جگہوں پر خواتین کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ورکشاپ کے شرکاء کو پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی جس میں کہا گیا کہ پالیسی کے نفاذ سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے اگاہی مہم ترتیب دیئے جائیں گے اور تعلیمی اداروں میں اس حوالے سے مضامین شامل کئے جائیں گے، اسی طرح خواتین کو تفریح، کھیل کود اور سفری سہولیات کی فراہمی کےحوالے سے بھی اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔

شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی، پالیسیز اور دیگر اقدامات سے عوامی آگاہی کے لئے بھی اقدامات اٹھائیں جائیں گے جبکہ سیاسی جماعتوں کو کم از کم پانچ فیصد سیٹس پر خواتین کو نمائندگی دینے کا پابند کیا جائے گا۔

سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود محمد ادریس کا کہنا تھا کہ پالیسی کا مقصد خواتین کو معاشی، معاشرتی، سیاسی اور قانونی طور پر بااختیار بنانا ہے، پالیسی کے تحت چترال اور بنوں میں نئے دارلامان اور پشاور میں زمونگ کور کے طرز پر لڑکیوں کے لئے الگ ادارہ قائم کیا جائے گا جس کا پی سی ون مکمل ہوچکا ہے، اسی طرح کام کرنے والی خواتین کے لئے ہاسٹلز کا قیام، انڈسٹریل ٹریننگ سنٹر سمیت مردان اور ایبٹ آباد میں خواتین کے لئے الگ سفری سہولیات دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں خواتین کی سہولت کے لئے وومن فسیلٹیشن سنٹر کے قیام کے لئے بھی پی سی ون منظور ہوچکا ہے۔

جینڈر سپیشلسٹ محکمہ سماجی بہبود سیدہ ندرت کا کہنا تھا کہ مشاورتی ورکشاپ میں خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک باقاعدہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا، پالیسی کے تحت متعلقہ سرکاری اداروں سے جینڈر فوکل پرسنز کا انتخاب مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ اب مرحلہ وار نفاذ کے حوالے سے ٹائم لائن پر کام جاری ہے۔