ضم اضلاع کانفرنس : تمام پختون تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام ضم اضلاع بیٹھک میں تمام شرکاء نے مطالبہ کیا ہے کہ انضمام کے بعد مقامی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں، بے گھر افراد کی فوری اور باعزت بحالی یقینی بنائی جائے اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 100ارب روپے فوری طور پر جاری کیے جائیں۔

باچاخان مرکز پشاور میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی زیرصدارت منعقدہ ضم اضلاع بیٹھک میں جماعت اسلامی،جمعیت علمائے اسلام (ف) ،قومی وطن پارٹی، پختون تحفظ موومنٹ، نیشنل پارٹی پختونخوا وحدت، مزدور کسان پارٹی، ضم اضلاع کی طلبہ تنظیموں، وکلاء، عمائدین، زعماء اور صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے شرکت کی۔

کانفرنس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں حکومت اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ صوبہ بھر اور باالخصوص ضم اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جائے، ترقیاتی کاموں اور انتظامی معاملات کے اختیارات سول انتظامیہ اور منتخب اراکین کے سپرد کیے جائیں، دس سال تک ٹیکس سے استثنیٰ اور معاہدے کے مطابق 22 ہزار خاصہ داروں کی بھرتی کا عمل یقینی بنایا جائے۔

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ پاک افغان تجارتی راستے کھول دیے جائیں، پشتونوں کی معاشی مضبوطی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں، لاپتہ افراد کی تفصیل جمع کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے، ضم اضلاع میں دوبارہ مردم شماری اور فارم میں قومیت کا خانہ بحال کیا جائے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ لینڈ مائنز کی صفائی کا عمل یقینی بنایا جائے، گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق ختم کی جائے، کانفرنس میں شرکاء نے منرل ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقامی وسائل پر مقامی افراد کا حق تسلیم کیا جائے، ضم اضلاع میں فوری طور پر موبائل سروس، تھری جی اور فوری سروس بھی فوری طور پر بحال کیے جائیں، چیک پوسٹس ختم کی جائیں اور سیاسی نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاؤن، مقدموں سے گریز کیا جائے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ باڑہ انڈسٹریل زون کو بحال کیا جائے اور ہر ضلع میں انڈسٹریل زون قائم کی جائے، لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزڈ کیا جائے اور ضم اضلاع کے لئے مختص نشستوں پر عملدرآمد اور سکالرشپس کی بحالی کو یقینی بنائی جائے، تعلیمی اداروں بالخصوص جامعات میں پشتون طلباء کے ساتھ امتیازی رویہ ترک کیا جائے، ضم اضلاع پر ایک اور پراکسی وار کی اجازت نہیں دی جائے گی، بدامنی کو ذریعہ آمدن بنانا بند کیا جائے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ پختونوں کی سیاست، پختونولی، ثقافت، جرگہ اور مسجد میں مداخلت بند کی جائے۔

کانفرنس کے آخر میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس میں ہر جماعت یا تحریک سے دو دو اراکین شامل ہوں گے، کمیٹی مشترکہ اعلامیے کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔

یاد رہے کہ 20 جنوری کو باچا خان اور ولی خان کی برسی کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے نوشہرہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران ضم شدہ اضلاع سے  متعلق ایک پشتون قیادت پر مشتمل ایک جرگہ بلانے کا اعلان کیا تھا۔

علاوہ ازیں اے این پی کے صدر نے پشتون سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مختلف تنظیموں کا ایک گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان بھی کیا تھا جو اب بعنوان  ”پختون قامی جرگہ” 10مارچ بروز منگل صبح دس بجے باچاخان مرکز پشاور میں منعقد ہوگا۔

جرگہ میں تمام پختون رہنما اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی پختون تنظیموں کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، مرکزی صدر اسفندیار ولی خان تاریخی پختون قامی جرگے کی میزبانی کریں گے۔