ضلع خیبر میں صدیوں سے ویران تیمور لنگ کا پھانسی گھاٹ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا میں طورخم بارڈر تک کا سفر بلند پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی سڑک سے گزرتے ہوئے آتا ہے۔  انہی پہاڑوں میں سے ایک کی چوٹی پر واقع  ہے تیمور لنگ کا پھانسی گھاٹ، جو صدیوں سے  ویران پڑا ہے۔

تاریخ دان پروفیسر اسلم تاثیر کے مطابق مشہور بادشاہ چنگیز خان اور ہلاکو خان کے رشتہ دار  تیمور شاہ لنگ کا زمانہ 1335 عیسوی سے 1405 عیسوی تک تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گمان ہے کہ 1381 میں مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات کو فتح کرنے کے بعد یہ پھانسی گھاٹ ان کے دور حکومت میں بناتا گیا تھا جس کا مقصد ان کے دشمنوں یا خلاف جانے والوں کو ’کرب ناک موت‘ دینا تھا۔

پروفیسر اسلم تاثیر نے بتایا: ’جس طرح چنگیز خان اور ہلاکو خان تاریخ میں سفاک بادشاہ گزرے ہیں، تو تیمور لنگ کا بھی انہیں سے رشتہ ہے۔ تاریخ میں ان کو ظالم اور جابر بادشاہ کہا جاتا ہے۔‘

پروفیسر اسلم تاثیر کے مطابق جنگجو حکمران تیمور لنگ نے 50 سال تک جنگیں لڑیں جس میں انہوں نے 42 ممالک فتح کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیمور لنگ کو قتل کرنا پسند تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ ’دنیا میں کٹی ہوئی گردن سے ابلتے ہوئے خون جیسا کوئی  نظارہ نہیں‘۔

پھانسی گھاٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے پروفیسر اسلم  نے بتایا کہ ’یہاں ایک ایسی سرنگ بنائی گئی تھی جہاں تیز دھار آلے لگائے گئے تھے۔ یہاں سے لوگوں کو دھکیل دیا جاتا تو وہ ٹکڑے ہو جاتے تھے۔ اسی پہاڑی کے دونوں جانب برساتی نالے ہیں تو ان کی باقیات پانی کے ذریعے بہا دی جاتی تھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس پھانسی گھاٹ کو ضلع خیبر میں بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ’یہاں کے رہنے والے بہت بہادر جفاکش اور دلیر لوگ تھے، ان کو زیر کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ تو تیمور لنگ نے یہ جگہ اس  لیے منتخب کی ہوگی کہ ان لوگوں پر ایک رعب اور دہشت جما دیں۔ ان کو ڈرا دیں، ان کو ایک پیغام دیں کہ میں بادشاہ ہوں اور اگر کوئی میرے مقابلے میں آئے گا تو اسے اس پھانسی گھاٹ سے اتارا جائے گا اور ختم کیا جائے گا۔‘

مورخین کہتے ہیں کہ تیمور لنگ ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو قتل کر کے ان کے سروں کے مینار بناتے تھے اور وہ جو شہر فتح کرتے تھے اس کی ساری آبادی کو قتل کر دیتے تھے۔

نوٹ : یہ تحریر انڈیپنڈنٹ اردو سے لی گی ہیں