پاکستان کے اقدامات پر ایف اے ٹی ایف کا اظہارِ اطمینان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ایف اے ٹی ایف نے دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے لیے پاکستانی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث افراد کو سزائیں دلوانے کے لیے قوانین کو موثر بنانے اور سزاؤں پر عمل درآمد میں تیزی لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

گرے لسٹ میں پاکستان کو شامل رکھنے یا نہ رکھنے پر غور کے لیے پیرس میں جاری ایف ٹی ایف کے اجلاس کے پہلے دور میں آج پاکستانی حکام نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو دی جانے والی سزاؤں، جرمانوں اور اب تک کی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں عدالتی نظام مکمل طور پر آزاد ہے اور عدالتی سزاؤں پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ وفد نے حافظ سعید کی عدالتی سزا کے بارے میں بھی ایف اے ٹی ایف کو آگاہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیرس میں 21 فروری تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

پہلے دن پاکستانی حکام نے ایف ٹی ایف کے اجلاس کو بتایا کہ ایکشن پلان پر ٹھوس پیش رفت کرکے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خطرات پر قابو پالیا گیا ہے۔ 27 میں سے 14 پر مکمل اور 11 نکات پر جزوی طور پر عمل درآمد کرلیا گیا ہے، صرف دو نکتوں پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پراسیکیوشن کو مزید تیز و موثر بنانے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے مطابق قوانین میں ترامیم لائی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے پہلے دور میں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستان کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

پاکستانی وفد منگل کے روز بھی اجلاس کو بریفنگ اور سوالات کے جواب دے گا۔