خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مزید 5 بچے پولیو کا شکار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
Sidra Sajjad sitting on her wheelchair while her younger sister and cousin playing in her house in Delhi gate society in Multan city of Punjab district of Pakistan. Sidra Sajjad 17 years old diagnosed with polio when she was less than a year old her both legs completely paralysed. Undaunted, his parents - a humble family of limited means – tried to do the treatment of their daughter but could not succeed. Sidra said, “I keep thinking about polio why this happened to me It always very painful for me to see my cousin running around me and I could not do that If I were not a polio patient I would play like my cousins. I know all the suffering of polio that’s why I would like to give a message to all the parents must vaccinate your under five children against polio”.

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیو کے 5 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد رواں برس کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں ملک کے مختلف حصوں میں سامنے آنے والے پولیو کیسز کی تعداد 17 ہوگئی۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے میں 4 نئے پولیو کیسز سامنے آئے ہیں جو ضلع لکی مروت سے رپورٹ ہوئے۔

حکام نے بتایا کہ لکی مروت کی تحصیل بیٹنی میں 22 ماہ اور 18 ماہ کے بچوں جب کہ تحصیل سرائے نورنگ میں 17 ماہ کے بچے اور تحصیل لکی مروت میں 11 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

صوبے میں 4 نئے کیسز کی تصدیق کے بعد رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 10 ہوگئی جن میں سے 9 کیسز ضلع لکی مروت اور ایک ٹانک سے رپورٹ ہوا ہے۔

اس سے قبل 15 فروری کو لکی مروت میں 4 نئے پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 2 کیسز ٹرائبل سب ڈویژن بیٹنی، 1 اباخیل اور 1 کیس بخمل احمد زئی سے رپورٹ ہوا ہے۔

اْدھر صوبے میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم 17 فروری سے شروع ہوگئی جس میں 68 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں بھی ایک اور پولیو کیس سامنے آیا ، محکمہ صحت بلوچستان کے حکام نے بتایاکہ ضلع پشین میں 7 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق حالیہ پولیو مہم کے دوران متاثرہ بچے کے اہلخانہ نے بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔

انسداد پولیو ٹیموں نے متعدد بار کوشش کی لیکن اہلخانہ اس پر راضی نہیں تھے۔حکام نے بتایا کہ بچے کے سیمپلز 31 جنوری کو حاصل کیے گئے تھے جن سے بچے میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق پشین سے کیس کی تصدیق کے بعد رواں سال بلوچستان میں پولیو کیسز کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔ دونوں صوبوں میں 5 کیسز کی تصدیق کے بعد ملک میں مجموعی طور پر پولیو کیسز کی تعداد 17 تک جاپہنچی ہے جس میں سے 10 کیسز خیبرپختونخوا، 5 سندھ اور 2 بلوچستان سے رپورٹ ہوئے۔

خیال رہے کہ سال 2019 پولیو کے حوالے سے پاکستان کے لیے خطرناک رہا ہے جہاں 140 سے زائد پولیو کیسز سامنے آئے تھے اور یہ تعداد گزشتہ کئی برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔

یہ بھی خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں آج سے 5 روزہ انسداد پولیو مہم شروع کردی گئی ہے جس کے دوران 5 سال سے کم عمر کے 67 لاکھ 52 ہزار 326 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

17 سے 21  فروری تک جاری رہنے والی پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کے لئے تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز کی 28 ہزار 49 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

پولیو ٹیموں میں 24 ہزار 900 موبائل، 1849 فکسڈ اور 1300 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں جن کی نگرانی کے لئے 6 ہزار 833 ایریا انچارج تعینات کئے گئے ہیں۔