صنعتی شعبے کو سستے داموں بجلی فروخت کرنے کا ماڈل تیار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے میں صنعتکاری کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو صوبے میں راغب کرنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اُٹھا رہی ہے اور صنعتی شعبے کو سستے داموں بجلی فراہم کرنے کیلئے ویلینگ رجیم کا معاہدہ اس ضمن میں انقلابی قدم ثابت ہو گا، حکومتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہداف کے حصول میں کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔

وزیراعلیٰ نے پیڈو اور پیسکو حکام کے درمیان ویلینگ ماڈل کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی کامیاب حکمت عملی سے سستی بجلی پیدا کرنے والے چار بجلی گھروں سے پیدا کردہ 74 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی گئی ہے اور اس کا باقاعدہ وفاقی ادارے CPPA-G سے معاہدہ بھی کرلیا گیا ہے جس سے صوبے کو 1.9 ارب روپے سالانہ آمدن ہوگی۔

اس موقع مشیر توانائی حمایت اللہ خان ،سیکرٹری توانائی محمدزبیرخان ،چیف ایگزیکٹو پیڈو انجینئر نعیم خان اور پیسکو چیف ڈاکٹر امجد علی خان سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے تجرباتی طورپر صوبے کے اپنے وسائل سے تعمیرکردہ پیہور پن بجلی گھر سے 18 میگاواٹ بجلی صنعتی شعبے کو سستے داموں فروخت کرنے کا ایک ماڈل تیار کیا ہے جس سے صوبے کی پانچ صنعتی یونٹس جن میں گدون ٹیکسٹائل ملز لمیٹیڈ، چراٹ پیکجنگ لمیٹڈ، اے جے ٹیکسٹائل لمیٹیڈ، پریمیئرچپ بورڈ انڈسٹریزلمیٹیڈ اور چراٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹیڈ وغیرہ شامل ہیں، کو سستی بجلی فراہم کی جائے گی جس سے نہ صرف صوبے کو سالانہ 305 ملین روپے کی آمدن ہوگی بلکہ 3 ہزار لوگوں کو براہ راست روزگار بھی ملے گا۔

ویلینگ ماڈل کے اس پائلٹ پراجیکٹ سے صنعتی شعبے کو ارزاں نرخوں پر بجلی دستیاب ہوگی جوکہ صوبے کی بیمار صنعتوں کی بحالی کی طرف بھی ایک مثالی اقدام ثابت ہوگا اور آنے والے دنوں میں صوبے کے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا روز اول سے یہ منشور رہا ہے کہ صوبے میں پن بجلی کی پیداوار کے دستیاب قدرتی وسائل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لا کر سستی بجلی پیدا کی جائے تاکہ ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے نکالا جا سکے۔

محمود خان نے کہا کہ یہ بات نہایت قابل فخر ہے کہ ہماری حکومت نے توانائی ایکشن پلان پر بڑی تیزی کے ساتھ کام شروع کر رکھا ہے اور صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے سرمایہ کار دوست توانائی پالیسی مرتب کر رکھی ہے۔

اُنہوں نے واضح کیا کہ محکمہ توانائی و برقیات صوبے کے مختلف اضلاع میں پانی کی نعمت سے سستی بجلی کی پیداوار کے متعدد منصوبے مکمل کر چکا ہے اور کئی چھوٹے، درمیانے اور بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق صنعتی صارفین کو ویلنگ ماڈل کے تحت بجلی کی فراہمی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا آغاز بہترین مثالیں ہیں جس سے نہ صرف صنعتوں کو ترقی ملے گی بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اس موقع پر مشیر توانائی حمایت اﷲ خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پبلک سیکٹر ز میں چار نئے منصوبے پلان کئے ہیں جن میں بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، بری کوٹ ،پترا ک شرینگل اور گبرال کالام ہائیڈر پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔

ان منصوبوں پر رواں مالی سال کے دوران تعمیری کام شروع کر دیا جائے گا جو 2025 میں مکمل ہوں گے، منصوبوں کی لاگت 1233 ملین ڈالر ہے جبکہ سالانہ متوقع آمدنی 17860 ملین روپے ہے۔