ہمارے لئے کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو پاکستان کیلئے ہے۔ طیب اردوان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ سے متعلق منصوبہ امن کا نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے، مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے، سرحد اور فاصلہ مسلمانوں کے درمیان فاصلہ پیدا نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

جمعہ کو پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے جہاں دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات کو سراہا وہیں فلسطین، قبرص اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے، پاکستان کا دکھ ترکی کا دکھ ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کی جانب سے ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کا تعاون اور ساتھ جاری رہے گا۔

طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ترکی کا بھرپور ساتھ دیا، پاکستان نے پاک ترک سکولوں کا نظام ہمارے حوالے کر کے حقیقی دوست ہونے کا ثبوت دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں، انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔