پاؤں اور ایک ہاتھ سے معذور لیکن حوصلہ بلند

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

قبائلی ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے دونوں پاؤں اور ایک ہاتھ سے معذور سرکاری سکول کے استاد گلزار حسین گزشتہ 14 ماہ سے اپنی تنخواہ سے محروم ہیں۔

28 سالہ گلزار حسین کا تعلق پارا چنار کے علاقے لقمان خیل سے ہے 199 میں بارودی مواد کے دھماکے میں جن کے دونوں پاؤں اور ایک ہاتھ ضائع ہوئے تھے۔

دھماکے میں دونوں پیر اور ایک ہاتھ ہارنے کے باوجود گلزار حسین نے ہمت و حوصلہ نہیں ہارا اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرکے اب اپنے ہی علاقے میں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔

ٹی این این کو اپنی کہانی سناتے ہوئے گلزار حسین کا کہنا تھا کہ 1999 میں وہ پہلی جماعت کے طالبعلم تھے جب وہ اس دھماکے کا شکار ہوئے لیکن اس کے باوجود انہوں نے حوصلہ رکھا اور میٹرک، ایف اے، بی اے، پی ٹی سی اور پھر اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری اعلیٰ نمبروں کے ساتھ حاصل کی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ 2014 سے گورنمنٹ پرائمری سکول میں پڑھا رہے ہیں تاہم فاٹا انضمام کے بعد سے اب تک انتظامیہ ان کی چھ ہزار ماہانہ تنخواہ روکے ہوئی ہے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں عدنان حیدر نامی ان کے ایک شاگرد کا کہنا تھا کہ استاد گلزار جی لگا کر پرھاتے ہیں اور ہمیشہ وقت پر سکول آتے ہیں۔

عدنان حیدر کے مطابق ان کے استاد پڑھانے کے ساتھ ساتھ تمام بچوں کا خیال رکھتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ انہیں مستقل کرے تاکہ دیگر معذوران کی دل شکنی نہ ہو۔

گلزار حسین کے مطابق زمانہ طالبعلمی میں ان کے گھر اور سکول کے درمیان کافی مسافت تھی جو بہ امر مجبوری گدھے پر سوار ہوکر طے کرنا ہوتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ معذوری کے باعث بسااوقات گدھے سے کئی کئی مرتبہ گرجاتین، چوٹیں آجاتی تھیں تاہم ان تمام صعوبتوں کے باوجود اپنا سلسلہ تعلیم جاری ہی رکھا۔

گلزار حسین نے بتایا کہ وہ جس سکول میں پڑھا رہے ہیں وہ بھی پہاڑ کی چوٹی پر ہے تاہم وہ چار پہیوں والی بائیک پر سکول جاتے ہیں۔