پختونخوا حکومت کی عوامی رسائی مہم کے تحت باڑہ میں عوامی بیٹھک

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر فوری اقدامات کیلئے پختونخوا حکومت کی عوامی رسائی مہم کے تحت ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ میں تقریب کا انعقاد کیا گیا.

تقریب میں شرکت کیلئے باڑہ میں بسنے والے آٹھ قبیلوں کے مشران سمیت وزیر ریلیف و آباد کاری اقبال وزیر، وزیر اعلٰی کے مشیر برائے ایکسائر و فوکل پرسن برائے تیز تر ترقیاتی پروگرام غزن جمال، ایم پی اے شفیق آفریدی اور ڈپٹی کمشنر خیبر محمود اسلم وزیر نے شرکت کی۔

ڈپٹی کمشنر محمود اسلم وزیر نے عوامی رابطہ مہم کے آغاز میں ضلع خیبر کیلئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلٰی کے معاون خصوصی غزن جمال کا کہنا تھا کہ تحصیل باڑہ میں سترہ مائیکرو ہائیڈل پاور پروجیکٹ، گیارہ واٹر چینلز، چیک ڈیم اور تالابوں کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کھیلوں کے فروغ، میدانوں کی بحالی، سیرو سیاحت، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز میں سپورٹس کملیکسز کی تعمیر اور روڈ انفراسٹرکچر کی بحالی و تعمیر کیلئے بھی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

عوامی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے کروڑوں روپے کے منصوبے شروع کئے جارہے ہیں اور تعلیمی ڈھانچے کو مظبوط بنانے کیلئے نئے تعلیمی ادارے تعمیر کئے جارہے ہیں جبکہ خواتین میں خواندگی کی شرح بڑھانے کیلئے تعلیمی وضائف کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث قبائلی اضلاع محرومیوں کا شکار رہے اور اپنے حقوق سے محروم رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں قبائلی اضلاع کے نام پر اربوں ڈالرز کے فنڈز ملے تاہم وہ فنڈز ان اضلاع کی فلاح و بہبود پر صرف نہ ہوسکی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں ترقی کا نیا دور شروع ہوچکا ہے اور مناسب پلاننگ کے بعد مختلف ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز کا اجرا اور ان پر کام شروع ہوچکا ہے۔

غزن جمال نے ایف سی آر کے فرسودہ نظام بارے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اُس نظام سے فرد واحد کو فائدہ ہوتا تھا جبکہ اب ان اضلاع میں شفافیت سے ہونے والے کاموں سے عوامی فائدہ ہورہا ہے۔ وزیراعظم عمران کے ویژن اور وزیراعلٰی محمود کی ہدایت کے مطابق تمام قبائلی اضلاع میں جاکر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تمام تر بھرتیاں میرٹ پر مقامی افراد کو مقدم رکھ کر کی جائینگی۔ دہشت گردی سے متاثرہ گھروں کی دوبارہ بحالی کاسلسلہ جاری ہے اور رہ جانے والے خاندانوں کو سروے میں شامل کیا جائے گا۔
غزن جمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام سکولوں میں پیرنٹ ٹیچر کونسل (پی ٹی سی ) تشکیل دئے گئے ہیں جس کے تحت متعلقہ سکول اپنے ضروریات کے مطابق فنڈز خرچ کرسکینگے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ باجوڑ سے لیکر ویزرستان تک تمام خاندانوں کوصحت انصاف کارڈ کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس سے معیاری اور بروقت علاج ممکن ہوگا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے جاری کئے گئے فنڈز لیپس نہیں ہونگے اور انہی علاقوں پر خرچ کئے جائینگے۔

تقریب کے آخر میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اپنے تجاویز و تاثرات پیش کئے اور عوامی دہلیز پر مسائل کی شنوائی ممکن بنانے پر حکومتی اقدام کو سراہا۔