سی پیک میں نئے قبائلی اضلاع میں انویسٹمنٹ بڑھانے پر غور

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے ملاقات کی اور سی پیک منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم صوبے کو صنعتی اور سیاحتی مرکز بنانے کے لیے کوشاں ہیں جب کہ پشاور تا ڈی آئی خان موٹروے، شندور روٹ اور سوات موٹروے فیز 2 سے صوبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا صوبہ معاشی طور پر خود کفیل ہو اس لیے ہم سی پیک منصوبے سے بھرپور استفادے کے لیے کوشاں ہیں۔

دریں اثنا پاک چین اقتصادی راہداری اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی دفتر پہنچے جہاں انہوں ںے اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حسان داﺅد بٹ نے چیئرمین سی پیک کو سی پیک کے تحت صوبے میں جاری منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

حسان داؤد بٹ نے بتایا کہ چشمہ رائٹ بینک کینال اور پشاور تا ڈی آئی خان موٹر وے منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے، اجلاس میں نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں انویسٹمنٹ بڑھانے پر بھی غور و خوض کیا گیا۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ چشمہ رائٹ بینک کنال اور پشاور تا ڈی آئی خان موٹروے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جائے گی، رشکئی اکنامک زون کے قیام سے خیبر پختونخوا کی معیشت مستحکم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جب کہ سی پیک سیکریٹریٹ اور سرمایہ کاری بورڈ کے باہمی تعاون سے چائنا میں روڈ شو کا انعقاد کیا جائے گا۔